کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 147
ألوانا من الجن والسحرۃ‘‘[1] انتھیٰ۔ [’’الغُول‘‘ عین پر پیش کے ساتھ اس کے معانی ہیں : ہلاکت،ناگہانی آفت،جن،سانپ،جادو گر جن اور شیطان جو لوگوں کو کھاتا ہے یا جانور جس کو عربوں نے دیکھ کر پہچان لیا اور تابط شر نے اسے قتل کر دیا اور وہ جن اور جادو گر جو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں ] 9۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس آیت،آیۃالکرسی کو ربع قرآن فرمایا ہے۔[2] (رواہ أحمد والطبراني) آیۃ الکرسی کے فضائل: امام بیہقی نے مرفوعاً روایت کیا ہے: ((مَنْ قَرَأَ آیَۃَ الْکُرْسِيِّ فِيْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ لَمْ یَکُنْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ إِلَّا أَنْ یَّمُوْتَ فَإِذَا مَاتَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) [3] (ذکرہ السیوطي في الدرالمنثور) [جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃالکرسی پڑھے گا،اس کے اور جنت کے درمیان صرف موت ہی حائل ہو گی،جونہی وہ فوت ہو گا جنت میں داخل ہو گا] نسائی اور طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ((مَنْ قَرَأَ آیَۃَ الْکُرْسِيِّ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ لَمْ یَمْنَعْہٗ مِنْ دُخُوْلِ الْجَنَّۃِ إِلَّا أَنْ یَّمُوْتَ)) [4] [جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃالکرسی کی تلاوت کرے گا،اسے صرف موت ہی دخولِ جنت سے روکے ہوئے ہے] طبرانی نے اس کی تلاوت کے ساتھ ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ پڑھنے کا بھی اضافہ کیا ہے۔ (ورواہ ابن حبان والدار قطني وابن مردویہ عن أبي أمامۃ وصاحب الفردوس عن أنس) علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے: [1] القاموس المحیط (ص: ۱۰۴۰) [2] مسند أحمد (۲۱/۳۲) اس کی سند میں’’سلمہ بن وردان‘‘ راوی ضعیف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں : سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ،رقم الحدیث (۱۴۸۴) [3] شعب الإیمان للبیہقي (۲/۴۵۵) الدرالمنثور للسیوطي (۲/۶) [4] المعجم الکبیر للطبراني (۸/۱۱۴) سنن النسائي الکبریٰ (۶/۳۰)