کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 138
((لِکُلِّ شَیْیٍٔ سَنَامٌ،وَسَنَامُ الْقُرْآنِ الْبَقَرَۃُ،وَفِیْھَا آیَۃٌ ھِيَ سَیِّدَۃُ آيِ الْقُرْآنِ)) [1] (رواہ الترمذي) [ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے،اس میں ایک آیت ایسی ہے جو قرآن مجید کی جملہ آیات کی سردار ہے] اس آیت سے مراد آیۃ الکرسی ہے۔ 5۔سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں کہا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورت کو پڑھے تو تین رات تک شیطان گھر میں نہیں آئے گا اور جو شخص دن کو پڑھے تو تین دن تک نہ آئے گا۔[2] (رواہ ابن حبان) 6۔سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ایک رات یہ سورت پڑھی تھی تو ان کو کچھ روشنیاں نظر آئیں۔انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ تَنَزَّلَتْ لِقَرَائَ ۃِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ)) [3] (رواہ ابن حبان والشیخان من حدیث أبي سعید بنحوہ) [یہ روشنیاں فرشتے تھے،جو سورۃ البقرہ کی قراء ت سننے کے لیے اترے تھے] 7۔سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کے بارے میں فرمایا ہے: ((لَا تُقْرَآنِ فِيْ دَارٍ ثَلَاثَ لَیَالٍ فَیَقْرُبَھَا شَیْطَانٌ)) [4] (رواہ الترمذي) [جس گھر میں انھیں تین بار پڑھا جائے تو شیطان اس گھر کے قریب نہیں آتا] 8۔سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((إِنَّ اللّٰہَ خَتَمَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ بِآیَتَیْنِ أَعْطَانِیْھمَا مِنْ کَنْزِہِ الَّذِيْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَعَلَّمُوْھُنَّ وَعَلِّمُوْھُنَّ نِسَائَ کُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ فَإِنَّھَا صَلَاۃٌ وَّقُرْآنٌ وَّدُعَائٌ)) [5] (رواہ الحاکم) [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۷۸) اس کی سند میں’’حکیم بن جبیر‘‘ ضعیف ہے،البتہ اس حدیث کے پہلے جملے’’لِکُلِّ شَیْیٍٔ سَنَامٌ،وَسَنَامُ الْقُرْآنِ الْبَقَرَۃُ‘‘ کا ایک شاہد حسن سند سے مروی ہے۔دیکھیں : سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ،رقم الحدیث (۵۸۸) [2] صحیح ابن حبان (۳/۵۹) اس کی سند میں’’خالد بن سعید‘‘ راوی مجہول ہے۔ [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۳۰) صحیح مسلم (۷۹۶) صحیح ابن حبان (۳/ ۵۸) [4] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۸۲) [5] المستدرک للحاکم (۱/۵۶۲) شعب الإیمان (۲/ ۴۶۱) اس کی سند میں’’عبداللّٰه بن صالح‘‘ ضعیف(