کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 135
ألماً شدیداً فکان کثیرا منھم یبرؤن سریعاً ببرکۃ الفاتحۃ۔[1] وقد یختلف الشفاء لضعف ہمۃ الفاعل،أولعدم قبول المحل أن یتداویٰ بکتابۃ الفاتحۃ،أو أن یتداویٰ بقراء ۃ الفاتحۃ،فکذٰلک یختلف الشفاء لضعف ہمۃ القاریٔ أو لتغییر القاریٔ في المخرج والصفات،أو لعدم قبول المحل،وإلا فالآیات والأدعیۃ في نفسھا نافعۃ شافیۃ‘‘[2] [ہر بیماری کا علاج ہے۔میں نے سورۃ الفاتحہ کی قراء ت سے خوب علاج کیا تو شفا کے سلسلے میں اس کی عجیب تاثیر پائی۔ہوا یوں کہ میں کچھ مدت کے لیے مکے میں ٹھہرا تو مجھے بیماریوں نے آ گھیرا اور مجھے کوئی طبیب میسر تھا نہ معالج۔میں نے کہا: اے میرے دل! مجھے چھوڑ دو،مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے نفس کا سورۃ الفاتحہ کے ساتھ علاج کر لوں۔چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا تو میں نے اس کی عجیب و غریب تاثیر دیکھی۔چنانچہ پھر جسے بھی شدید الم اور تکلیف ہوتی تو میں اسے یہی (سورۃ الفاتحہ کے ساتھ دم کا) علاج بتاتا تو ان میں سے اکثر لوگ سورۃ الفاتحہ کی برکت سے جلد ہی شفا یاب ہو جاتے۔کبھی (سورۃ الفاتحہ سے) شفا طلبی کا معاملہ مختلف ہوتا ہے،اس کا سبب یا تو فاعل (دم کرنے والے) کی ہمت و عزم میں ضعف ہوتا ہے یا (دم کا) محل اس بات کو قبول نہیں کرتا،بہ ایں طور کہ سورۃ الفاتحہ کی تحریر یا قراء ت سے علاج کیا جائے۔ایسے ہی شفا کا معاملہ مختلف ہوتا ہے،کیوں کہ قاری کی ہمت میں کمزوری ہوتی ہے یا مخرج اور صفات کی قاری کی طرف سے تغییر اور عدمِ درستی سبب بنتی ہے یا محل اس کو قبول نہیں کرتا،ورنہ آیات اور دعائیں فی نفسہا نفع مند اور شفا بخش ہیں ] شیخ نازلی رحمہ اللہ نے کہا: ’’واعلم أنہ قد یعمل کثیر من الناس شیئاً من ذٰلک،ولا یقع علیٰ مقصودہ وغرضہ،وذٰلک إنما یکون لأمرین: أحدھما أن یکون العامل من العصاۃ غیر أہل للانفعالات والمکاشفات،والثاني عملہ علیٰ سبیل التجربۃ [1] نیز دیکھیں : مدارج السالکین (۱/۳۱) أول طبع المنار [مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ] الجواب الکافي (ص: ۳) [2] الجواب الکافي (ص: ۳)