کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 127
اس روایت کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ فاتحہ بغیر بسملہ کے نہ پڑھے،کیوں کہ جمہور کے نزدیک بسملہ سورۃ الفاتحہ کی ایک آیت ہے،لہٰذا اسے ہر بار الحمد کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔پھر فقط میم اور لام کے اتصال پر اجر عظیم کا مرتب ہونا اگر کوئی سرِ الہٰی ہے تو اللہ ہی جانے۔ہاں اگر اس کا ثبوت صحیح اور معتبر طریق سے حدیث کی کسی معتمد کتاب سے بھی ہاتھ میں آ جائے تو پھر کیا کہنا۔یہ نور علیٰ نور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میم کے لام سے اتصال کرنے میں قرآن کے کوئی معنی بھی متغیر نہیں ہوتے کہ ہم اس پر فساد کا حکم لگائیں،بلکہ یہ ترکیب ایک قسم کی قراء ت ہے،اس کو اس طرح پرپڑھنا بجائے خود ممنوع نہیں ہو سکتا ہے۔واللّٰہ أعلم۔ 7۔سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں فرمایا ہے: ((أُمُّ الْقُرْآنِ عِوَضٌ مِنْ غَیْرِھَا،وَلَیْسَ غَیْرُھَا عِوَضٌ مِّنْھَا)) [1] (أخرجہ الدارقطني والحاکم) [ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) اپنے غیر کا عوض اور بدل بن سکتی ہے،مگر اس کا غیر اس کا بدل نہیں بن سکتا] 8۔سیدنا عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((أَخْیَرُ سُوْرَۃٍ فِيْ الْقُرْآنِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ)) [2] (رواہ أحمد والبیہقي) [قرآن مجید کی سب سے بہترین سورت الحمد للہ رب العالمین ہے] 9۔سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ((عَوَّذَنِيْ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ تَفْلاً)) [3] (رواہ الطبراني) [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الفاتحہ کا دم کر کے مجھ پر تھوکا] 10۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً فرماتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کے دو ثلث کے برابر ہے۔[4] 11۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں فرمایا ہے: [1] سنن الدارقطني (۱/ ۳۲۲) المستدرک للحاکم (۱/ ۳۶۳) ضعیف الجامع (۱۲۷۴) إرواء الغلیل (۲/ ۱۱) [2] مسند أحمد (۴/ ۱۷۷) صحیح الجامع،رقم الحدیث (۲۵۹۲) [3] المعجم الکبیر للطبراني (۷/۱۸۹) المعجم الأوسط للطبراني (۷/۳۱) اس کی سند میں’’عبداللّٰه بن یزید البکري‘‘ ضعیف ہے۔(مجمع الزوائد: ۵/ ۱۹۴) [4] مسند عبد بن حمید (۶۷۸)