کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 119
[جبریل علیہ السلام جب وحی لاتے تو سب سے پہلے’’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم‘‘ نازل کرتے] 2۔عثمان رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : ((ھو اسم من أسماء اللّٰہ،وما بینہ وبین اسم اللّٰہ الأکبر إلا کما بین سواد العین وبیاضھا من القرب)) [1] (رواہ ابن أبي حاتم والحاکم والبیہقي وأبو ذر الھروي والخطیب البغدادي) [وہ اللہ کے اسما میں سے ایک اسم ہے،اس کے اور اللہ کے اسمِ اعظم کے درمیان اتنا ہی قرب ہے،جتنا آنکھ کی سیاہی اور سفیدی کے درمیان قرب ہے] امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اسمِ اعظم’’یااللہ‘‘ ہے۔[2] جابر بن یزید رحمہ اللہ سے تاریخ بخاری میں مروی الفاظ یہ ہیں کہ اللہ کا اسمِ اعظم’’اللہ‘‘ ہے۔تو نہیں دیکھتا کہ سارے قرآن میں اسی نام سے شروع کیا جاتا ہے۔[3] 3۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی حدیث میں’’بسم اللّٰہ‘‘ کو سورۃ الفاتحہ کی ایک آیت ٹھہرایا گیا ہے۔[4] (رواہ أحمد وأبو داؤد والحاکم) 4۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جبریل علیہ السلام آتے اور’’بسم اللّٰہ‘‘ پڑھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیتے کہ یہ سورت ہے۔[5] (رواہ الحاکم بإسناد صحیح) 5۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ہم دو سورتوں کے درمیان امتیاز نہ جانتے تھے،یہاں تک کہ بسم اللہ اترتی۔[6] بعض اہلِ معرفت کہتے ہیں : ’’البسملۃ کلمۃ قدسیۃ من کنز الھدایۃ،وخلعۃ ربوبیۃ من خلع الولایۃ،ووصلۃ [1] تفسیر ابن أبي حاتم (۱/ ۲۵) المستدرک للحاکم (۱/۷۳۸) شعب الإیمان للبیہقي (۲/۴۳۷) تاریخ بغداد (۷/ ۳۱۳) اس کی سند میں’’سلام بن وھب‘‘ ضعیف ہے۔دیکھیں : الضعفاء للعقیلي (۲/ ۱۶۲) لسان المیزان (۳/ ۶۰) [2] الدر المنثور (۱/ ۲۴) نیز دیکھیں : مصنف ابن أبي شیبۃ (۷/ ۲۳۴) [3] الدر المنثور (۱/ ۲۳) التاریخ الکبیر (۱/ ۲۰۹) [4] مسند أحمد (۶/ ۳۰۲) سنن أبي داؤد،رقم الحدیث (۴۰۰۱) المستدرک للحاکم (۲/ ۲۵۲) [5] المستدرک للحاکم (۱/ ۲۳۱) اس کی سند میں’’مثنیٰ بن الصباح‘‘ راوی ضعیف ہے۔البتہ اس کے ہم معنی ایک روایت سنن أبي داود،رقم الحدیث (۷۸۸) میں صحیح سند سے مروی ہے۔ [6] شعب الإیمان (۲/ ۴۳۹)