کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 112
الحدیث،فإن التحقیق کما یستفاد من حدیث أن من عمل بالقرآن فکأنہ یقرأ دائماً،و إن لم یقرأہ،ومن لم یعمل بالقرآن فکأنہ لا یقرأہ،وإن قرأہ دائماً،وقد قال تعالیٰ: ﴿کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ﴾ فمجرد التلاوۃ والحفظ لا یعتبر اعتبارا یترتب علیہ المراتب العلیۃ في الجنۃ العالیۃ‘‘[1] (کذا ذکرہ علي القاري في المرقاۃ) [2] [یہ بات حسن و جمال،کمالِ ظہور اور نمایاں ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔اس میں ابن حجر رحمہ اللہ کے طعن کرنے،اسے ضعیف قرار دینے اور حدیث کی بنا پر اس کو تکلف اور منافات پر محمول کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔اس سلسلے میں حدیث سے مستفاد ہونے والی تحقیقی بات یہ ہے کہ بلاشبہہ جس نے قرآن پر عمل کیا،گویا وہ اسے دائمی طور پر پڑھتا ہے،اگرچہ وہ دائمی طور پر اس کی تلاوت نہ کرتا ہو اور جس نے قرآن مجید پر عمل نہ کیا تو وہ ایسے ہے جیسے وہ اس کی تلاوت نہیں کرتا،اگرچہ وہ اس کی ہمیشہ تلاوت کرتا ہو۔یقینا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ﴾ (یہ ایک کتاب ہے،ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے،بہت بابرکت ہے،تاکہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں) بہرحال خالی تلاوتِ قرآن اور اس کا حفظ کرنا اتنا معتبر نہیں ہے کہ اس پر اتنے بڑے بڑے مراتب بلند مقام جنت میں حاصل ہو سکیں ] میں کہتا ہوں کہ یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔اس زمانے میں حفاظ بہت ہیں۔اسی ایک ہمارے شہر میں کئی سو حافظ ہوں گے،لیکن عمل و تدبر والا ان میں کوئی نظر نہیں آتا اور اگر علماے کرام کو تلاش کرو تو دو چار بھی میسر نہیں آتے،پھر ان میں وہ عالم جس نے قرآن پر تدبر کیا ہو اور اس کی تفسیر سمجھی ہو تو وہ اور بھی نادر الوجود ہے۔اس کے باوجود اللہ کی رحمت عام ہے،وہ چاہے تو حفاظ کو اعلا مراتب پر پہنچا دے اور علماے کرام کو ان سے بھی زیادہ عالی تر درجہ بخشے۔ روز قیامت ہر کسے در دست گیر نامۂ من نیز حاضر میشوم تفسیر قرآن در بغل [1] خزینۃ الأسرار (ص: ۶۴) [2] مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح لعلي القاري (۶/ ۴۹۷)