کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 106
2۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر تم سعادت مندوں کی زندگی،شہدا کی موت،حشر میں نجات،گرمی والے دن سایہ اور گمراہی کے بجائے ہدایت چاہتے ہو تو قراء تِ قرآن پر مداومت کرو کہ یہ رحمان کا کلام ہے،شیطان سے حصنِ حصین ہے اور میزان کو بھاری کرنے والا ہے۔[1] 3۔نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((أَفْضَلُ عِبَادَۃِ أُمَّتِيْ قِرَائَ ۃُ الْقُرْآنِ)) [2] (رواہ البیہقي،کذا في الإتقان) [میری امت کی افضل عبادت قراء تِ قرآن ہے] 4۔سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’اقرؤا القرآن،ولا تغرنکم ھذہ المصاحف المعلقۃ،فإن اللّٰہ لا یعذب قلبا وعیٰ القرآن أي حفظہ‘‘[3] [یعنی تم قرآن پڑھا کرو،کہیں اس دھوکے میں نہ آنا کہ یہ مصاحف گھر میں رکھے ہوئے ہیں،اللہ تعالیٰ اس دل کو عذاب نہیں کرتا ہے جو قرآن کو یاد کر لیتا ہے] 5۔معاویہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: تین چیزیں دنیا میں غریب (نادر) ہیں : 1۔ظالم کے پیٹ میں قرآن۔ 2۔قومِ بد میں مرد صالح۔ 3۔اس گھر میں مصحف جس میں پڑھا نہ جائے۔[4] 6۔بعض روایات میں آیا ہے کہ جس نے قرآن پڑھا،پھر یہ اعتقاد کیا کہ کسی اور کو اس سے بہتر شے دی گئی ہے تو اس نے صغیر کو عظیم اور عظیم کو صغیر کر ڈالا۔[5]ولا حول ولا قوۃ إلا باللّٰہ۔ [1] حلیۃ الأولیاء (۱/ ۲۴۰) مسند الفردوس للدیلمي (۸۴۸۱) کنز العمال (۲۴۳۹) تنزیہ الشریعۃ لابن عراق (۲/ ۳۴۱) [2] شعب الإیمان للبیہقي (۲/۳۵۴) الإتقان في علوم القرآن (۲/۶۵۹) اس کی سند میں’’عباد بن کثیر‘‘ ضعیف ہے،لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں : سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ (۲۵۱۵) [3] سنن الدارمي (۲/۵۲۴) [4] مولف رحمہ اللہ نے یہ روایت’’خزینۃ الأسرار‘‘سے نقل کی ہے،جس میں یہ روایت مرفوعاً مذکور ہے۔اس کے ہم معنی ایک روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جو موضوع ہے۔دیکھیں : السلسلۃ الضعیفۃ (۳۹۶۵) [5] یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے۔دیکھیں : الکامل لابن عدي (۲/ ۳۷۷) مجمع الزوائد (۷/ ۳۳۰)