کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 105
میں نے عرض کی: ’’یا رب! بفہم أو بغیر فہم؟ قال: بفہم أو بغیر فہم‘‘[1]انتھیٰ۔ [اے میرے رب! اس کو سمجھ کر تلاوت کے ساتھ یا بغیر سمجھ کے؟ فرمایا: خواہ سمجھ کر یا بغیر سمجھے] شیخ حقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلام بہترین ساتھی ٹھہرا تو اب زیبا یہ ہے کہ اس کے ساتھ بیٹھنا بھی اکمل حالات پر ہو،تاکہ یہ حدیث اس پر صادق نہ آئے: ((رُبَّ تَالٍ لِلْقُرْآنِ،وَالْقُرْآنُ یَلْعَنُہٗ)) [2] [قرآن کی تلاوت کرنے والا کوئی ایسا بھی ہوتا ہے کہ قرآن اس پر لعنت کرتا ہے] اسی وجہ سے امام قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’ما جالس أحد ن القرآن إلا قام عنہ بزیادۃ أو نقصان‘‘[3] [جس نے بھی قرآن کے ساتھ مجالست کی تو وہ اس سے فائدہ یا نقصان لے کر ہی اٹھا] تلاوتِ قرآن ایک افضل عبادت ہے: 1۔عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں : ((یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ! لَا تَتَوَسَّدُوْا الْقُرْآنَ،وَاتْلُوہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ مِنْ آنَائِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ،وَافْشُوْہُ وَتَغَنَّوْہُ وَتَدَبَّرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ،وَلَا تَعَجَّلُوْا ثَوَابَہُ،فَإِنَّ لَہُ ثَوَاباً)) [4] (رواہ البیہقي) [اے اہلِ قرآن! قرآن کے بارے میں سستی نہ کرو،جیسے اس کی تلاوت کا حق ہے،ویسے صبح و شام اس کی تلاوت کرو،اس (کی تعلیمات) کو عام کرو،اس کو خوش الحانی سے پڑھو،اس پر تدبر کرو،تاکہ تم فلاح پا جاؤ،دنیا میں اس کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو،کیوں کہ (آخرت میں) اس کا ثواب (بہت زیادہ) ہے] [1] سیر أعلام النبلاء (۱۱/ ۳۴۷) خزینۃ الأسرار (ص: ۵۷) [2] إحیاء علوم الدین (۱/ ۲۷۴) یہ حدیث نہیں ہے،بلکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا موقوف اثر ہے۔ہمیں اس کی سند بھی نہیں ملی۔علامہ ابن باز رحمہ اللہ اور دیگر علما نے اس کو غیر صحیح قرار دیا ہے۔دیکھیں : فتاویٰ ابن باز (۲۶/ ۶۱) [3] تفسیر القرطبي (۱۰/ ۲۷۴) [4] شعب الإیمان للبیہقي (۲/۳۵۰) اس کی سند میں’’أبوبکر بن أبي مریم‘‘ ضعیف ہے۔دیکھیں : الإصابۃ (۴/ ۴۲۸)