کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 101
6۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ’’مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ یُرَدَّ إِلیٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ،وَ ذٰلِکَ فِيْ قَوْلِہِ تَعالیٰ: ﴿ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ * اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ قال: إِلَّا الَّذِیْنَ قَرَؤُا الْقُرْآنَ ‘‘[1](رواہ الحاکم) [جو قرآن مجید کی تلاوت کرے گا،وہ رذیل عمر کو نہیں پہنچے گا،اس کا بیان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: ﴿ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ * اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ (پھر ہم نے اسے لوٹا کر نیچوں سے سب سے نیچا کر دیا،مگر وہ لوگ جو ایمان لائے) انھوں نے فرمایا کہ ﴿ اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ سے مراد ہے’’إِلَّا الَّذِیْنَ قَرَؤُا الْقُرْآنَ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے قرآن مجید کی تلاوت کی] تلاوتِ قرآن کی مدح میں حارث اعور کے طریق سے ایک طویل حدیث بہ روایتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مرفوعاً مروی ہے،جو مشکات میں مرقوم ہے۔[2] اس حدیث کو اس جگہ اس لیے نہیں لکھا گیا کہ اگرچہ دارمی نے اس کو روایت کیا ہے،لیکن ترمذی نے کہا ہے کہ’’ھٰذا حدیث إسنادہ مجہول،وفي الحارث مقال‘‘ انتھیٰ۔(اس حدیث کی اسناد مجہول ہے اور اس کے راوی حارث اعور میں کلام ہے) مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ حدیث کے معانی درست ہیں،بلکہ قرآن مجید کے فضائل اس سے بھی زیادہ ثابت ہیں۔واللّٰہ أعلم۔ 7-سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً بیان کیا ہے: ((مَنْ قَرَأَ عَشَرَ آیَاتٍ فِيْ لَیْلَۃٍ لَمْ یُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ)) [3] (رواہ الحاکم) [جو شخص رات کو (قیام وغیرہ کرتے ہوئے) دس آیات کی تلاوت کرے گا تو وہ غافلین میں سے نہیں لکھا جائے گا] 8-دوسری مرفوعاً مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((وَمَنْ قَرَأَ فِيْ لَیْلَۃٍ مِائَۃَ آیَۃٍکُتِبَ مِنَ الْقَانِتِیْنَ)) [4] (رواہ ابن خزیمۃ والحاکم واللفظ لہ) [1] المستدرک للحاکم (۲/۵۷۶) [2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۹۰۶) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۴۸۴) [3] المستدرک للحاکم (۱/۷۴۲) نیز دیکھیں : سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۳۹۸) [4] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۳۹۸) صحیح ابن خزیمۃ (۲/۱۸۰) المستدرک للحاکم (۱/۴۵۲)