کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 99
یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ خلفائے راشدین کی الگ کوئی سنت نہیں تھی جس کی تابعداری کی جاتی تھی بلکہ ان خلفاء نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی ہر قدم ہر مرحلے پر تابعداری کی اسی لئے ان کو ہدایت یافتہ کہا گیا۔ان کی طرف سنت کی اضافت کا مطلب یہ ہے کہ سنتوں کے زیادہ حقداد ہیں ان کو ماننے والے ہیں اور دیگر لوگوں کی بنسبت انہیں زیادہ سمجھتے ہیں۔یہ بات جو ہم نے کی ہے اہل علم سے تواتر کے ساتھ منقول ہے۔جیسا ہ ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میری اور خلفاء راشدین کو سنتوں کو اپنائے رکھو تو یہ بات واضح ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نا ممکن کام کا حکم نہیں دے سکتے۔اور آپ کے بعد خلفاء میں شدید اختلاف ہوا ہے لہٰذا اس حدیث کی صرف تین توجیہات ہی ہو سکتی ہیں۔[1] ۱۔ یا تو ہم ان تمام مسائل کو اپنا لیں جن میں ان کا اختلاف تھا۔جبکہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ ایک ہی وقت میں دو متضاد آراء کو اپنانا ممکن نہیں ہوتا۔مثلاً عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے کہ دادا کو میراث ملے گی بھائیوں کو نہیں(کی صورت میں)،عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں دادا کو ثلث ملے گابقیہ بھائیوں کو ملے گا۔علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں دادا کو چھٹا حصہ بقیہ بھائیون کو ملے گا،اب ان تینوں پر بیک وقت عمل نہیں ہو سکتا۔اس طرح ہر اس مسئلے میں جہاں ان کا اس طرح کا اختلاف ہے۔لہٰذا یہ صورت تو ناقابل عمل ہے۔ایک صورت تو یہ تھی۔ ۲۔ یا ہمارے لئے مباح ہو کہ ہم جسے چاہیں اپنا لیں۔مگر یہ صورت اسلام سے خروج کہلائے گی اس لئے کہ اس طرح اللہ کے دین کا اختیار ہمارے پاس آجائے گا اور اس طرح ہم میں سے جو شخص چاہے گا کسی چیز کو حلال اور دوسرا اسے حرام [1] الاحکام فی اصول الاحکام (6؍ 76، 78)