کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 98
فَسَيضرضى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا،وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلاَلَةٌ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ،عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ)) عرباض بن ساریہ کی روایت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میں تمہیں اللہ سے ڈرنے(تقوی)کی وصیت کرتا ہوں،اور(اس بات کی کہ)سنو اور اطاعت کرو اگرچہ ایک حبشی غلام ہو(امیر یا حکمران)تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سا اختلاف دیکھے گا(دین میں)نئے ایجاد کردہ امور سے بچو کہ یہ گمراہی ہے۔تم میں سے جو بھی ان حالات سے دوچار ہو تو اسے چاہیئے کہ میری اور خلفائے راشدین کی سنتوں کو اپنائے رکھے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھے۔[1] [1] (صحيح) صحیح سنن ابی داؤد ، حدیث رقم (4607) ، سنن ابو داؤد ، کتاب السنۃ ،باب فی لزوم السنۃ ، حدیث رقم(3991)، سنن الترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الاحد بالسنۃ ...، حدیث رقم(2600)۔صحیح روایت ہے، ابو داؤد، ترمذی،ابن ماجہ نے عبدالرحمن بن عمرو السلمی کے واسطے سے روایت کی ہے۔میں کہتا ہوں یہ تابعی ہیں ان سے بہت سے ثقات نے روایات لی ہیں اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے۔اس کی متابعت حجر بن حجر نے ابن حبان اور ابو داؤد میں کی ہے اور ابن ابی عحم نے السنۃ میں یہ بھی تابعی ہیں ان سے صرف خالد بن معدان نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اس کو ثقہ کہا ہے۔ اس حدیث کی اور بھی سندیں ہیں جیسے یحییٰ بن ابی اعطاع کہتے ہیں میں نے عرباض بن ساریہ سے سنا....... اس کے رجال ثقہ ہیں ،ربستہ دحیم نے اشارۃ کہا ہے کہ یحییٰ بن ابی المطاع کی عرباض سے روایت مرسل ہے۔میں کہتا ہوں یحییٰ نے عرباض سے سماعت کی صراحت کی ہے اور ان تک سند صحیح ہے۔اس حدیث کے اور بھی طرق ہیں لہٰذا یہ حدیث بغیر شک شبہ کے ثابت ہے علماء کی رائے اس حدیث کی تصحیح اور اس سے دلیل لینے پر متفق ہے ۔سوائے ابن القطان الفاسی کے مگر اس پر اور اس کے مقلدی پر ادا کرنے کا یہ موقع نہیں ہے