کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 87
احادیث کے فقہاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دیگر فقھاء کی بنسبت زیادہ جانتے ہیں اور ان کے صوفیاء دیگر صوفیاء [1]کی بنسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ اتباع کرتے ہیں اور احادیث کے امراء دیگر لوگوں کی بنسبت سیاست نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔اور ان کے عوام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھنے میں دیگر لوگوں کی بنسبت زیادہ حقدار ہیں۔[2] (۳)قابل توجہ بات؟ اگر کوئی سوال کرے کہ یہ لوگ قرآن کی طرف اپنی نسبت کیوں نہیں کرتے تاکہ اہل القرآن کہلائیں؟ جواب:اس بارے میں ہم علامہ ابو القاسم ھبۃ اللہ بن الحسن الالکائی المتوفی ۴۱۸ ہجری کا قول پیش کرتے ہیں اپنی کتاب شرح اصول عقائد اھل السنۃ والجماعۃمیں لکھتے ہیں:جو شخص جس مذہب کا معتقد ہوتا ہے وہ اس مذہب کے بانی کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے اور اس کی رائے کا سہارا لیتا ہے۔اصحاب الحدیث کے مذہب کو لانے والے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ لوگ آپ کی طرف ہی اپنی نسبت کرتے ہیں آپ ہی کے علم کا سہارا لیتے ہیں۔آپ ہی سے دلیل و رہنمائی لیتے ہیں آپ کی طرف لوٹ کر جاتے ہیں(مسائل میں)آپ ہی کی رائے کی اقتدا کرتے ہیں۔اسی پر فخر کرتے ہیں آپ کے ساتھ قربت کی بنا پر یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی [1] یہاں صوفیاء سے مراد وہ صوفیاء نہیں ہیں جن کے افکار و عقائد اسلام سے انحراف والے ہیں بلکہ مراد ہیں زاہد(دنیا سے بے رغبت) جیسا کہ میں نے اس کی وضاحت اپنی کتاب الجماعات الاسلامیہ فی ضوء الکتاب والسنہ بفھم سلف الامہ صفحہ۸۲۔صفحہ۱۵۲ میں کی ہے۔ [2] مجموع الفتاویٰ (4؍ 95)