کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 82
۹۔ محمد بن الحسین الآجری المتوفی۳۶۰ ہجری۔ ۱۰۔ محمد بن عبداللہ الحاکم النیساپوری المتوفی۴۰۵ ہجری۔ ۱۱۔ احمد بن علی بن ثابت الخطیب النیساپوری المتوفی۴۶۳ ہجری۔ ۱۲۔ الحسین بن مسعود البغوی المتوفی۵۱۶ ہجری۔ ۱۳۔ عبدالرحمن بن الجوزی المتوفی۵۹۷ ہجری۔ ۱۴۔ ابو زکریا یحییٰ بن یحییٰ بن شرف النووی المتوفی۶۷۶ ہجری۔ ۱۵۔ احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ شیخ الاسلام المتوفی۷۲۸ ہجری۔ ۱۶۔ اسحاق بن ابراہیم الشاطبی المتوفی ۷۹۰ ہجری۔ ۱۷۔ احمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی۸۵۲ ہجری۔ ان تمام علماء کے اقوان ان کے ناموں کےساتھ میں نے اپنی کتاب الالی المنثور فی اوصاف الطائفۃ المنصورہ میں لکھے ہیں۔ مذکورہ تمام علماء اور ان کےعلاوہ اور بھی بہت سے اہل علم نے وضاحت سے لکھا ہے کہ فرقہ ناجیہ اور طائفہ منصورہ اہل الحدیث ہی ہیں۔انشاء اللہ ان علماء کے اقوال کو اپنانے والا کبھی غلطی پر نہ ہوگا۔اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ رہنے والا یا ساتھ دینے والا کبھی رسوا نہیں ہوتا۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس پر اہل علم کا اجمع نقل کی اہے۔وہ فرماتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندر واضح فضائل موجود ہیں اور علم حفظ کرنے میں واضح نشانیاں ہیں۔ صحیحین میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا اس کو ذلیل کرنے والا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ تمام علماء یا ان کی اکثریت کی رائے ہے کہ اس(گروہ)سے مراد حاملین علم ہیں۔[1] [1] تہذیب الاسماء و اللغات (1؍ 17)