کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 79
دیکھیں الآجری رحمۃ اللہ علیہ نے غرباء کی تفسیر فرقہ ناجیہ سے کی ہے۔حافظ ابن رجب الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے "شبھات اور گمراہ کن خواہشات کی وجہ سے اہل قبلہ میں افتراق پیدا ہورہا ہے اور یہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں حالانکہ پہلے یہ آپس میں بھائی تھے ان کے دل ایک تھے۔ان فرقوں میں سے ایک ہی فرقہ ناجیہ نجات حاصل کرے گا اور یہ وہ گروہ ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں ہے:((لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ،لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ،حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كَذَلِكَ)) ترجمہ:’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے ساتھ نمایاں رہے گا،اس کو رسوا کرنے کی کوشش کرنے والا اور ان کی مخالفت کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا،یہاں تک کہ اللہ کاحکم آ جائے اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔‘‘[1] یہ آخر زمانے کے وہ غرباء(اجنبی)ہیں جن کا ذکر احادیث میں ان الفاظ میں آچکا ہے۔یہ لوگوں کے بگاڑے ہوئے(امور)کی اصلاح کریں گے۔یہ لوگوں کی بگاڑی ہوئی سنتوں کی اصلاح کریں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین کو لے کر فتنوں سے دور جائیں گے۔یہ قبائل کے پڑوس میں اجنبی ہیں۔اس لئے کہ یہ لوگ کم ہوں گے کہ بعض قبائل میں ان میں سے ایک آدمی بھی نہیں پایا جائے گا جیسا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام میں داخل ہونے والوں کی حالت تھی۔ائمہ نے اس حدیث کی یہی تفسیر کی ہے۔ مثلاً امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ بدء الاسلام غریباً وسیعود کما بدء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسلام ختم نہیں ہوگا البتہ اہل سنت ختم ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شہر میں ان میں سے ایک آدمی باقی رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ سلف کے اقوام میں انہیں غرباء اور قلیل کہا گیا ہے۔ [1] کشف الکریۃ فی وصف حال اہل الغربۃ (22، 27)