کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 78
والذین یمسکون بکتاب اللّٰه حین یترک یعملون بالسنۃ حین تطفأ(اجنبی وہ لوگ ہیں کہ جو کتاب اللہ کو تھامے رکھیں گے جب لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور سنتوں پر عمل کریں گے جب وہ گمنام ہوں گی) یہ الفاظ بکر بن عمرو المعافری کی معضل روایت میں ہیں۔ 10۔ لا یمارون فی دین اللّٰه ولا یکفرون اھل القبلۃ بذنب(اللہ کے دین میں جھگڑتے نہیں اور گناہ کی بنا پر اہل قبلہ کو کافر قرار نہیں دیتے) یہ الفاظ ابو الدرداء،انس اور واثلہ کی روایت میں ہیں مگر سب ایک سند پر مجتمع ہیں۔وہ سند بہت کمزور ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ غرباء(اجنبی)کی تفسیر میں صرف دو مرفوع تفسیریں صحیح ہیں: ۱۔ الذین یصلحون اذا افسد الناس۔ ۲۔ اناس صالحون فی اناس سوء کثیر من یعصیھم اکثر ممن یطیعھم ثالثاً:کیا غرباء،فرقہ ناجیہ اور طائفہ منصورہ تینوں الگ الگ ہیں؟(یا ایک ہی چیز ہے؟) ان تینوں میں کوئی فرق نہیں ہے اس لئے کہ یہ ایک ہی حقیقت کی طرف لے جانے والے(نام)ہیں۔سلف کے اہل علم نے اس کی صراحت کی ہے جیسا کہ الآجری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےکہ:سبعود غریباً۔اس کا مطلب یہ ہے کہ گمراہ کن خواہشات بہت زیادہ ہوں گی ان کی وجہ سے بہت سے لوگ گمراہ ہو جائیں گے اور وہ اہل حق جو شریعت اسلامیہ پر کار بند ہوں گے۔وہ لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائیں گے۔کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا کہ میری امت ۷۲ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔سوال ہوا کہ وہ کونسا فرقہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا آج میں اور میرے صحابہ جس طریقے پر ہیں۔[1] [1] صفۃ الغرباء من المؤمنین (27)