کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 69
فقیہ ابو نصر بن سلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ملحدین کے لئے سب سے بھاری اور قابل نفرت چیز حدیث اور اسناد کے ساتھ اس کی روایت ہے۔[1] محمد بن اسماعیل ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "میں اور احمد بن حسن ترمذی ابو عبداللہ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بیٹھے تھے تو احمد ترمذی نے ابن حنبل سے کہا کہ اے ابو عبداللہ مکہ میں ابو قتیلہ کے سامنے اصحاب الحدیث کا ذکر ہوا تو اس نے کہا برے لوگ ہیں۔ابو عبداللہ ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا زندیق ہے۔زندیق ہے،زندیق ہے۔[2] حاکم رحمۃ اللہ علیہ معرفۃ علوم الحدیث صفحہ۴ پر لکھتے ہیں ہم نے اپنے وطن اور اپنے سفر میں دیکھا ہے کہ جو بھی بدعتی ہے یا کسی اور قسم کے الحاد میں مبتلا ہے وہ طائفہ منصورہ کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اسے حشویہ کہتا ہے۔[3] ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اہل بدعت کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل الحدیث پر اعتراضات کرتے ہیں۔زندیقوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل الحدیث کو حشویہ کہتے ہیں اس کے ذریعے وہ احادیث کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔قدریہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو مشبہ کہتے ہیں۔رافضہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو نابتہ اور ناصبہ کہتے ہیں۔[4] الصابونی رحمۃ اللہ علیہ عقیدہ سلف صفحہ ۱۰۵۔۱۰۷میں لکھتے ہیں:’’یہ سب(نام)عصبیت ہے سوائے ایک نام کے اور وہ ہے اہل الحدیث پھر فرماتے ہیں میں نے اہل بدعت کو دیکھا ہے کہ وہ اہل سنت کو جو اس طرح کے القاب سے پکارتے ہیں تو اس میں انہوں نے وہی راستہ اختیار کیا ہے جو [1] شرف اصحاب الحدیث (24) ، معرفۃ علوم الحدیث (4)، عقیدہ السلف (104) [2] شرف اصحاب الحدیث (74) ، معرفۃ علوم الحدیث (103)، مناقب احمد (108) [3] معرفۃ علوم الحدیث (4) [4] ابن ابی حاتم ، اہل السنۃ واعتقادالدین المطبوعۃ فی (مجلۃ الجامعۃ السلفیہ )عدد شہر رمضان 1403ھ ،عقیدہ السلف، (105) شرح اصول عقائد اہل السنۃ والجماعۃ (2؍ 179)