کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 66
جہاں تک تعلق ہے فرقہ ناجیہ اور طائفہ منصورہ کی پہچان کا تو اس کی تعریف اور پہچان کے لئے چار اوصاف ہیں۔ ۱۔ لا تزال طائفۃ:ہمیشہ یہ طائفہ رہے گا۔ ۲۔ ظاہرۃ علی الحق:یعنی کامیاب رہے گا۔ ۳۔ لایضرھم من خذلھم ولا من خالفھم:یعنی اہل بدعت اور کفار اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ۴۔ کلھا فی النار الا واحدۃ:ایک طائفہ ہی جہنم سے نجات حاصل کرنے والا ہوگا۔ پہلی اور دوسری صفات کے بارے میں وہ احادیث اس بات پر متفق ہیں جو طائفہ منصورہ سے متعلق ہیں کہ یہ طائفہ قیامت تک اسلام پر ثابت قدم رہے گا۔یہ بہت بڑی صفت ہے جسے اہل علم نے بہت زیادہ ذکر کیا ہے۔اس لئے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایاتھا وہ ہو کر رہا۔ المناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’اس میں واضح معجزہ ہے اس لئے کہ اہل سنت موجودہ وقت تک ہر دور میں نمایاں اور غالب رہے ہیں۔جس سے بدعات کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔مثلاً خوارج،معتزلہ،رافضی وغیرہ اس وقت سے ان فرقوں میں سے کسی کی حکومت قائم نہیں ہوئی ہے نہ ہی ان کی قوت برقرار رہی ہے،بلکہ جب بھی انہوں نے جنگ کے لئے آگ بھڑکائی ہے اللہ نے اسے کتاب و سنت کے نور سے بجھا دیا ہے۔یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔[1] [1] فیض القدیر (6؍ 395)