کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 64
اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں:اگر آپ جاہلوں سے پوچھیں گے کہ سواد اعظم کس کو کہتے ہیں تو وہ کہیں گے لوگوں کی جماعت کو۔یہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ جماعت اس عالم کو کہا جاتا ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنا رکھا ہو۔اس کے ساتھیوں اور پیرو کاروں کو جماعت کہا جاتا ہے۔[1] امام شاطبی اپنی کتاب میں اسی فہم کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں آپ اس بات کی تفصیل دیکھ لیں تو اس خیال کی غلطی آپ کے سامنے آجائے گی کہ جماعت سے مراد لوگوں کا گروہ ہے اگرچہ ان میں عالم نہ ہو۔یہ عوام کی فہم اور سمجھ ہے علماء کی نہیں ہے۔لہٰذا جس کو اللہ نے توفیق دی ہے اسے چاہیئے کہ لغزشوں سے محفوظ رہے اپنے قدم جمائے رکھے تاکہ گمراہ نہ ہو۔اللہ سے توفیق کی دعا ہے۔[2] امام الالکائی رحمۃ اللہ علیہ طائفہ منصورہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں"مخالفت کرنے والے اس طائفہ سے نفرت کریں گے،یہ(طائفہ)سواد اعظم اور بہت بڑی جمہور ہے۔ان میں علم اور حکم ہوگا۔عقل اور حکم،خلافت و سیادت،ملک اور سیاست ہوگی۔یہی جمعوں اور اجتماعات والے ہوں گے۔یہی جماعت اور مساجد والے ہوں گے۔یہی(طائفہ کے لوگ)عبادات اور عید والے(ذمہ دار)ہوں گے۔حج اور جہاد کرنے والے ہر شخص کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنے والے۔سرحدوں کی حفاظت کرنے والے۔ایسے مضبوط لوگ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔[3] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی لئے فرقہ ناجیہ کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ وہ اہل سنت والجماعت ہیں اور وہی جمہور اکبر اور سواد اعظم ہیں۔[4] [1] ابو نعیم ،حلیۃ الاولیاء (9؍ 239) [2] الاعتصام للشاطبی (2؍ 267) [3] شرح اصول عقائد اہل السنۃ والجماعۃ (1؍ 25) [4] مجموع الفتاویٰ (3؍ 345)