کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 62
کے سامنے نماز کے وقت کو موخر کرنے کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو،اور ان(تاخیر کرنے والے اماموں کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز)کو نفل بنا لیا کرو۔عمرو بن میمون کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ہماری پھر جماعت کا کیا ہو گا؟،تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اے عمرو بن میمون جماعت کی اکثریت وہ ہے جو جماعت سے علیحدہ ہو جائے دراصل جماعت وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے موافق ہو اگر چہ تم اکیلے ہی ہو۔[1] علامہ ابو شامہ نے بھی اسے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور اپنے مندرجہ ذیل قول کے لئے اس کو دلیل بنایا ہے۔جہاں بھی لزوم جماعت کا حکم آیا ہے اس سے مراد ہے حق کو لازم پکڑ نا اور اس کی اتباع کرنا ہے۔اگرچہ اس حق کو اپنانے والے کم اور اس کی مخالفت کرنے والے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں اس لئے کہ حق وہی ہے جس پر پہلی جماعت جو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی تھی وہ قائم تھی۔اہل باطل کی کثرت کو نہ اس وقت دیکھا گیا تھا،اور نہ اب دیکھا جائے گا،اس قول کے بعد ابو شامہ نے مذکورہ حدیث بطور دلیل کے نقل کی ہے۔[2] اسی بات کو علامہ ابن القیم الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی پسند فرمایاہے۔جیسا کہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں" کہ کتنی ہی بہترین بات ابو شامہ نے اپنی کتاب ’’الحوادث والبدع‘‘ میں کہی ہے۔اور پھر اس کے بعد مذکورہ قول ذکر کیا ہے۔[3] میں کہتا ہوں کہ ہر صاحب نظر کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جماعت وہی ہے جو حق پر کاربند ہو اگرچہ ایک آدمی ہی کیوں نہ ہو اور احادیث میں طائفہ منصورہ کی جو [1] الالکانی فی شرح اصول اعتقاد ، اہل السنۃ والجماعۃ (160) ، وابن عساکر فی تاریخ دمشق (13؍ 322؍ 2) ، و صحیح اسنادہ مشکاۃ المصابیح (للالبانی) ۔(1؍ 61) [2] الباعث علی انکار البدع والحوادث ابوشامۃ (22) [3] اغاثہ اللھفان من مصائد الشیطان، (1؍ 69)