کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 59
۱۰۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ ہیں" میری امت کا ایک گروہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا،کسی کی مخالفت اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔[1] ((عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ،:إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ،لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ)) ۱۱۔ قرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جب اہل شام بگڑ جائیں گے تو تم میں خیر نہیں ہوگا،میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ فتح یاب ہوگا،قیامت تک کسی کی مخالفت اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔[2] ((عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا،يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ،حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ)) ۱۲۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس طرح ہے "یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اس کے لئے مسلمانوں کا ایک گروہ قتال کرے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔[3] ((عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بلفظین:الاول،وَلَا تَزَال طَائِفةُ مِنْ أُمتى ظَاهِريْنَ عَلى الدين غزيزة إِلى يَومِ الَقِيامَةِ الثانی:لَا يَزَالُ أَهْلُ الْغَرْبِ ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ،حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ)) ۱۳۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت دو طرح کے الفاظ سے مروی ہے۔ ۱۔ ایک گروہ میری امت کا دین پر رہے گا،قیامت تک معزز رہے گا۔[4] [1] (حسن) صحيح سنن ابن ماجہ حدیث رقم (7)، سنن ابن ماجہ ، کتاب المقدمہ، باب اتباع سنۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم (7) [2] (صحیح) صحیح سنن ابن ماجہ حدیث رقم(6)، سنن ابن ماجہ ،کتاب المقدمہ ، باب اتباع سنۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم (6) [3] صحیح مسلم، کتاب الامارۃ ،باب قولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم لا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین ، رقم(3546) [4] جامع الاحادیث للسیوطی (16375)