کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 58
((عَن سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ رضی اللّٰہ عنہ .....الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ،لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ،يَزْيِغُ اللّٰهُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ،فَيُقَاتِلُونَهُمْ،وَيَرْزُقُهُمُ اللّٰهُ مِنْهُمْ،حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ،أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ،وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي[ص:166]نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ)) ۷۔ سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں:اب قتال کا وقت آگیا۔میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا اللہ قوموں کے دل بلند کر دے گا تو وہ قتال کریں گے اللہ انہیں رزق دے گا اور وہ اس حال پر ہوں گے یا د رکھو مومنین کا مزکر شام ہو گا اور گھوڑوں میں قیامت تک کے لئے خیر مقرر کیا گیا ہے۔[1] ((عَنْ عَبْدُ اللّٰه بِنْ عَمْرِو و عُقْبَةَ بْن ِعَامِرٍ رضى اللّٰه عنه لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللّٰهِ،قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ،لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ،حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ)) ۸۔ عبداللہ بن عمر کی روایت اور۔۹۔عقبہ بن عامر کی روایت ہے دونوں میں لفظ اس طرح ہیں میری جماعت کی ایک جماعت اللہ کےحکم پر قتال کرے گی غالب رہے گی۔اس کی مخالفت کرنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔یہاں تک کہ قیامت آجائے،اور وہ اس حالت پر رہے گی۔[2] ((عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:قَالَ:لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَوَّامَةً عَلَى أَمْرِ اللّٰهِ،لَا يَضُرُّهَا مَنْ خَالَفَهَا)) [1] (حسن) سلسلۃ الصحیحۃ حدیث رقم(1961) مسند احمد حدیث رقم (16351) [2] صحیح مسلم، کتاب الامارۃ ،باب قولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم لا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین ، رقم(3550)