کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 57
۴۔ ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت اس میں الفاظ اس طرح ہیں،میری امت میں سے ایک گروہ حق پر رہے گا اسے رسوا کرنے والا اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا،یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی طرح رہے گا۔[1] ((عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ)) ۵۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاب:’’میری امت میں سے ایک گروہ قتال کرے گا وہ حق پر رہے گا،اپنے مخالفین پر غالب رہے گا۔یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی مسیح دجال سے قتال کرے گا۔[2] ((عَنْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ،يَقُولُ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،قَالَ:فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ:تَعَالَ صَلِّ بِنَا،فَيَقُولُ:لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللّٰهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ)) ۶۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت ہے جس کے الفاظ ہیں’’ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر قتال کرے گا قیامت تک،فرمایا پھر عیسی بن مریم نازل ہوں گے تو اس گروہ کا امیر عیسٰی علیہ السلام سے کہے گا آئیں ہمیں نماز پڑھائیں۔تو وہ کہیں گے میں نہیں پڑھاؤں گا،تم میں سے بعض بعض کے امیر ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے اس امت کے لئے عزت و تکریم ہے۔[3] [1] صحیح مسلم، کتاب الامارۃ ،باب قولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم لا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین ، رقم (3544) [2] (صحيح ) صحيح سنن ابی داؤد ، حدیث رقم (2484) ، سنن ابی داؤد ، کتاب الجہاد، باب فی دوام الجہاد، حدیث رقم (2125) [3] صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب نزول ابن مریم حاکما بشریعۃ بینا محمد، رقم (225)