کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 55
ہیں کہ وہ ’’السواد اعظم‘‘ ہوگا یعنی ناجیہ۔[1] ۵۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں انس کی روایت والا اضافہ ہے۔ ۶۔ عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں "ما انا علیہ الیوم واصحابی" آج جس طریقے پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔[2] اسی طرح عمرو بن عوف مزنی،ابی الدرداء،ابی امامہ،واثلہ بن الاسقع،انس بن مالک ایک حدیث میں جمع ہیں۔ان احادیث سے اس جماعت یا گروہ کی پہچان معلوم ہوجاتی ہے جو گروہ کہ دین کی اصل پر قائم ہوگا جس نے سنت کو مضبوطی سے تھام رکھا ہوگا۔وہ ناجیہ اس لئے ہوگا کہ اس نے اختلاف سے نجات حاصل کر لی ہوگی(ناجیہ کا معنی ہے نجات پانے والی)اور ان شاء اللہ جہنم سے بھی نجات حاصل کر لے گا۔ ۲۔طائفہ منصورہ کے بارے میں روایات: ((عَنْ مُعَاوِيَةَ،قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،يَقُولُ:«لاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللّٰهِ،لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ،وَلاَ مَنْ خَالَفَهُمْ،حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ)) ۱۔ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہے گا۔اس کو رسوا کرنے کی کوشش کرنے والا [1] (حسن) ظلال الجنة، حدیث رقم (68) المعجم الاوسط حدیث رقم (7202) [2] (حسن) مستدرک الحاکم ، فصل: فی توفیرالعالم ، حدیث رقم (444)