کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 47
اس سے معلوم ہوا کہ جب لفظ سلف کا اطلاق ہوگا تو اس سے مراد زمانی سبقت نہیں ہوگی بلکہ مراد ہو ں گے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور ان کے متبعینؒ۔اس اعتبار سے سلف کی اصطلاح کا اطلاق ان لوگوں پر ہوگا جنہوں نے اپنی عقیدہ اور منہج وہ اپنائے رکھا(بعد میں پیدا ہونے والے)اختلافات سے قبل جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عقیدہ و منہج تھا۔ سلفیت کا معنی سلفیت سلف کی طرف نسبت کو کہا جاتا ہے،یعنی صحیح منہج کی طرف نسبت۔سلفیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے کہ کوئی شخص مذہب سلف کا اظہار کرے اور اس کی طرف اپنی نسبت کرے بلکہ ایسا کرنے والے کے اس عمل کو بالاتفاق قبول کرنا واجب ہے۔اس لئے کہ سلف کا مذہب حق ہی تھا۔[1] کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حالانکہ انہیں حقیقت کا علم بھی ہے مگر پھر بھی وہ تحریف سے کام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سلفیت ایک نئی اسلامی جماعت کا کوئی روپ ہے جس نے خود کو اسلامی جماعت سے علیحدہ کر لیا ہے۔اور وہ اپنے لئے اس نام سے ایک خاص اور معین مفہوم رکھتی ہے۔یہ دیگر مسلمانوں سے اپنے احکام اور میلانا بلکہ اپنے ذاتی مزاج اور اخلاقی پیمانوں کے لحاظ سے بالکل الگ شناخت رکھتی ہے۔[2] [1] مجموع الفتاوی (4؍ 149) [2] ۱۔جیسا کہ ڈاکٹر بوطی نے اپنی کتاب" السلفیۃ مرحلۃ زمانیۃ مبارکۃ لامذھب اسلامی" میں لکھا ہے ۔یہ کتاب بظاہر رحمت اور باطنی طور پر عذاب ہے۔