کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 46
میں کہتا ہوں یہاں سلف سے مراد صحابہ ہیں۔ ۵۔ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اپنے نفس کو سنت پر صبر کرواؤ اور وہیں ٹھہرو جہاں قوم ٹھہرتی ہے وہی کہو جو وہ کہتی ہے۔اس سے رک جاؤ جس سے وہ رکتے ہیں اپنے سلف صالحین کے راستے پر چلتے رہو۔تمہارے لئے وہی جائز ہے جو ان کے لئے تھا۔[1] میں کہتا ہوں یہاں مراد صحابہ ہیں۔ لہٰذا سلف کا اصطلاحی معنی یہی ہے کہ اس کے علاوہ کچھ دور نہیں ہو سکتا۔ زمانے کے لحاظ سے یہ لفظ اس دور کے لئے استعمال ہوتا ہے جو خیر القرون کا دور ہے جو اتباع و اقتداء کے لئے بہترین دور ہے۔یعنی قرون ثلاثہ جسے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر القرون یعنی بہترین ادوار قرار دیا ہے۔فرمایا:((خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي،ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ،ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ،ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ،وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ))[2] بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں،پھر ان کےبعد آنے والے اور پھر ان کے اتباع۔پھر ایسے لوگ آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے سبقت لے جائے گی اور ان کی قسم سے پہلے کرے گی۔ لیکن سلف کے مفہوم کو زمانی حد بندی میں محصور کرنا دشوار ہے اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر گمراہ اور بدعتی فرقوں نے انہیں زمانوں میں سر اٹھایا تھا۔لہٰذا اس زمانے میں کسی انسان کے موجود ہونے کے باوجود ہم یہ حکم اس پر نہیں لگا سکتے کہ وہ سلف کے منہج پر تھا۔جب تک کہ وہ کتاب و سنت کے فہم میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی مواقفت نہ کرتا رہا ہو۔اسی لئے علماء اس اصطلاح میں قید لگاتے ہیں۔ [1] احری فی الشریعۃ (58) [2] صحیح البخاری ، کتاب الشہادات ، باب لا یشہد علی شہادۃ جور اذا اشہد ، حدیث رقم (2458)