کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 39
زمین میں گڑھا ہوا تنا باقی رہ جائے گا۔ایسے حالات میں مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ وہ اس تنے کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اس کا ہر لحاظ سے خیال رکھیں۔ اس لئے کہ ان زہریلی آندھیوں کے باوجود یہ درخت پھر سے پھلنا پھولنا شروع کرے گا۔(ان شاء اللہ) ۳۔ ان حالات میں مسلمان کا فریضہ یہ ہوگا کہ وہ اس جماعت کی طرف اپناہاتھ بڑھائے جو اس تنے اور جڑ کو تھامے ہوئے ہو تاکہ اس تنے سےفتنوں اور آزمائشوں کی تکالیف دور کی جا سکیں۔ایسا گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی دجال[1] سے قتال کرے گا۔ اس طرح حذیفہ رضی اللہ عنہ والی روایت سے تین امور ثابت ہوتے ہیں۔ 1۔ مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا،اور ان کے امام کی اطاعت کرنا اگرچہ نافرمان ہوں جیسا کہ صحابی نے سوال کیا کہ((قُلْتُ:كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ،إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ:«تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ،وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ،وَأُخِذَ مَالُكَ،فَاسْمَعْ وَأَطِعْ)) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں ان حالات کو پالوں تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا سنو اور امیر کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ مارے۔تمہارا مال لے،سنو اور اطاعت کرو۔[2] جب مسلمانوں نے متاخرین خلفاء کا ظلم و جور دیکھا تو وہ اس مسئلے سے ناواقف تھے اس لئے انہوں نے ان خلفاء کی حکومت ختم کرنے کے لئے کفار سے تعلقات استوار کر لئے ان کے حلیف بن گئے۔یہ لوگ بھول گئے کہ خلفاء کے خلاف خروج و بغاوت اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک وہ واضح و صریح کفر و شرک کا ارتکاب نہ کریں ایسا کفر کہ اس پر ان کے پاس اللہ کی طرف دلیل ہو۔ایسی دلیل جسے امت کے علمائے [1] اس بارے میں احادیث کی بحث آنے والی ہے۔ [2] صحيح مسلم ، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عن ظہور الفتن ، حدیث رقم (3435