کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 38
((أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّٰهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ،وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا،فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا،فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ،تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ)) تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا(دین میں ایجاد شدہ)نئے نئے کاموں سے گریز کیا کرو اس لئے کہ یہ گمراہی ہے۔تم میں سے جو بھی اس طرح کے حالات سے دوچار ہو تو اسے چاہیئے کہ میری اور خلفائے راشدین کی سنت کا لازم پکڑے اسے مضبوطی سے تھام لے۔[1] حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی درخت کی جڑ(تنے)کے ساتھ چمٹ جاؤ،اور ان تمام گمراہ فرقوں سے علیحدگی اختیار کر لو،اور عرباض کی روایت میں ہے کہ اختلاف کے موقع پر سنت کو صحابہ کرام کی فہم کے مطابق مضبوطی سے تھام لو اور تمام بدعات سے دور رہو کہ بدعات گمراہی ہے۔جب ہم دونوں حدیثوں میں تطبیق دیتے ہیں تو ایک مناسب معنی سامنے آتا ہے یعنی یہ کہ جب گمراہ فرقوں کا ظہور ہو اور مسلمانوں کی جماعت(جماعت المسلمین)اور ان کا امام نہ ہو تو سنت نبوی کو سلف صالحین کی فہم کے مطابق اپنائے رکھو۔ ۲۔ اس سے معلوم ہوا کہ حذیفہ کی روایت میں جو درخت کی جڑ کے ساتھ چمٹنے کا ذکر ہے تو اس سے حقیقتاً ایسا کرنا مراد نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے حق پر صبر کرنا اور حق سے رو گردانی کرنے والے گمراہ فرقوں سے علیحدگی اختیار کرنا،یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے بڑے اور سایہ دار درخت کی شاخون کو آندھیاں توڑ کر اڑا دیں گی۔صرف اس کا [1] (صحيح) صحیح سنن ابی داؤد ، حدیث رقم (4607) ، سنن ابو داؤد ، کتاب السنۃ ،باب فی لزوم السنۃ ، حدیث رقم(3991)، سنن الترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الاحد بالسنۃ ...، حدیث رقم(2600)