کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 36
یعنی:جب لوگوں کا کوئی امام نہ ہو اور لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہوں تو کوئی آدمی ان میں سے کسی فرقہ کی اتباع نہ کرے بلکہ ممکن ہو تو ان سب گروہوں سے علیحدگی اختیار کرے۔اگر شر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ دیگر احادیث میں جو کچھ آیا ہے وہ بھی اسی طرح سمجھا جائے گا اور ان میں جو بظاہر تعارض ہے اس کو اس طرح تطبیق دے کر ختم کیا جائے گا۔[1] ان جماعتو ں کے بارے میں ایک مسلمان کا طرز عمل یہ ہونا چاہیئے کہ وہ ان جماعتو ں میں سے ہر جماعت کے پاس جتنا حق ہے اس پر ان سے تعاون کرتا رہے اور جہاں کسی جماعت میں حق میں کوتاہی نظر آئے تووہاں ان کی رہنمائی کرے۔خیر خواہی اور کوتاہی کی نشاندہی کرتا رہے۔ان جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ یہ آپس میں ان باتوں پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں جنہیں یہ سب حق مانتی ہیں۔اور اختلافی مسائل اور معاملات میں ایک دوسرے کو سمجھاتی رہیں۔خیرا خواہی کرتی رہیں اور اللہ سے دعا کرتی رہیں کہ وہ سب کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت نصیب فرمائے۔[2] [1] فتح الباری (13؍ 37) [2] یہ اتفاق حق پر ہونا چاہیئے نہ کہ دیگر گروہوں اور پارٹیوں کی طرح کہ جس بات پر ہمارا اتفاق ہے اس پر باہمی تعاون کریں گے اور جس میں اختلاف ہے اس پر مد مقابل کو معذور جانیں گے۔ اس کے نقصانات کا تذکرہ حمد العثمان نے اپنی کتاب زجر المتھاون بضرراقاعدۃالعذر والتعاون میں کیا ہے ۔تعاون علی البر والتقویٰ مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے ۔خاص کر دعوتی میدان میں کام کرنے والوں کا ۔لیکن یہ تعاون تب ممکن ہو سکتاہے جب اس کے لئے دو اصول مد نظر رکھے جائیں۔ 1۔سلف صالحین کے منہج کو اپنانا۔ 2۔پارٹی بازی اور گروہ بندی کو ترک کرنا۔ اور اگر یہ گروہ اور جماعت سلف کے خلاف عقائد پر قائم رہے اور ہر گروہ کا طریقہ دوسرے سے الگ ہو تو پھر ان کے آپس میں تعاون کی صورت صرف ظاہری ہو گی کہ بظاہر ایک نظر آئیں گے ۔مگر ان کے دل ایک دوسرے سے الگ ہوں گے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض اہل سنت کہلانے والے اس مذکورہ عمل کی طرف توجہ کم دیتے ہیں۔تو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ حق سلفی دعوت ہے لہٰذا