کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 27
اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی ہے اور اس سے اللہ عزوجل نے خبر دار کیا تھا:﴿كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ(التوبہ:8) ترجمہ:’’(بھلا ان سے عہد)کیوں کر(پورا کیا جائے جب ان کا حال یہ ہے)کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں ان کے دل(ان باتوں کو)قبول نہیں کرتے اور ان میں اکثر نا فرمان ہیں۔ ایک اور مقام پرارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ(البقرہ:14) ترجمہ:’’جب یہ(منافق)لوگ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جب اپنے شیطانوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مذاق کرنے والے ہیںَ اس طرح یہ لوگ قوموں کو حقیر سمجھتے ہیں اور وہ ان کی پیروی کرتی ہیں ان کی قیادت کو تسلیم کرتی ہیں اس لئے کہ(یہ قومیں)اللہ کے منہج سے روگردانی کر چکی ہیں۔اور یہ(یہود و نصاریٰ)ان اقوام کو جہنم کی طرف کھینچ رہی ہیں۔اور انہیں تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ یہ لوگ اپنی گمراہیوں اور منکرات کی طرف دعوت دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے اس مقصد کے لئے اجلاس اجتماعات اور سیمینار ز منعقد کرتے رہتے ہیں اسی لئے حدیث میں ان کے لئےلفظ دعاۃ،دعوت دینے والے استعمال ہوا ہے۔ دعاۃ داعی کی جمع ہے جس کا معنی ہے ایسی جماعت جو اپنے کام اور ذمہ داری کو پورا کرنے والی ہو۔لوگوں کو اپنے مقصد اور مشن کی طرف دعوت دینے والی ہوں۔[1] [1] عون المعبود العظیم آبادی، (11؍ 317)