کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 26
اندر سے اسلام مخالف ہوں گے۔اس لئے کہ لفظ جلدۃ جو حدیث میں آیا ہے اس کا معنی ہوتا ہے ظاہر،بدن کھال کو کہا جاتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ عرب مراد لینے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ گندمی رنگ ان میں زیادہ ہے اور رنگ کھال پر ہی ظاہر ہوتا ہے(جسے جلدۃ کہا گیا ہے)۔[1] ((وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ)) ایک روایت میں ہے ان میں کچھ لوگ ایسے اٹھ کھڑے ہوں گے جن کے دل شیطانوں کے اور جسم انسانوں کے ہوں گے۔[2] یہ دوسری صفت ہے جس کے ذریعے انہیں پہچانا جا سکتا ہے۔یہ لوگ امت کے بارے میں اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں اس کی مصلحت،سیادت،آزادی اور جداگانہ حیثیت کی بات کرتے ہیں یہ لوگ امت کو اپنی باتوں سے راضی کرتے ہیں۔مگر ان کے دلوں میں صرف یہی مقصد ہے کہ ان کے صلیبی اور یہودی سر پرستوں نے انہیں جو کچھ لکھا یا پڑھایا ہے وہ نافذ کر دیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ(البقرہ:140)ترجمہ:’’یہود آپ سے کبھی خوش نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے قبلہ کی پیروی نہ کریں۔ فرنگی،یہودی اسی مقصد کے لئے لائحہ عمل بناتے ہیں اور ان کے غلام جو گروہوں کی صورت میں ہمارے ملکوں میں موجود ہیں وہ انہیں نافذ کرتے اور اس کا پرچار کرتے ہیں۔اس لئے کہ ان غلاموں کو یہی کچھ پلایا گیا ہے۔اس کے فوائد انہوں نے حاصل کیئے ہیں انہیں شیطان کی ماں بتسمہ دیا ہے اور یہ ابلیس کے اس لشکر میں شامل ہیں۔جنہیں صلیبی مقاصد کی تربیت دی گئی ہے اگرچہ یہ عمل بہت سست رفتار ہے مگر [1] فتح الباری (13؍ 36) [2] صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن، رقم(3435)