کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 23
لئے چراہ گاہ ہے۔اس کی زمین پر باطل بھی قوت حاصل کر چکا ہے حالانکہ باطل مٹنے کے لئے ہوتا ہے اور ہر منافق اور اسلام سے لا تعلق شخص بھی اس امت کے معاملات میں باتیں کرتا ہے۔ایسے نااہل لوگ پیدا ہو چکے ہیں جو خواہشات کی پیروی کرتے ہیں شبھات نے انہیں گھیر رکھا ہے اس وجہ ان کے دلوں میں کمزوری داخل ہو چکی ہے امت پر جہالت اور زندگی کی محبت کی مدہوشی طاری ہو چکی ہے۔جس کی وجہ سے یہ اب امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنے والی امت نہ رہی۔اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کر رہی لہٰذا اب یہ بہتر امت ہونے کے شرف سے بھی محروم ہو چکی ہے۔اس لئے کہ بہتر امت ہونے کی جو شرط تھی وہ اس میں باقی نہ رہی۔[1] ((عن أنس بن مالك قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أنتم اليوم على بينة من ربكم تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتجاهدون في سبيل اللّٰه ثم تظهر فيكم السكرتان سكرة الجهل وسكرة حب العيش وستحولون عن ذلك فلا تأمرون بمعروف ولا تنهون عن منكر ولا تجاهدون في سبيل اللّٰه القائمون يومئذ بالكتاب والسنة لهم أجر خمسين صديقا قالوا يا رسول اللّٰه منا أو منهم قال لا بل منكم)) انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو۔تم اچھائی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہو پھر تم دو قسم مصیبتیں یا پریشانیاں پیدا ہو جائیں گی(۱)جہالت،(۲)زندگی سے محبت۔اور تم ان مذکورہ امور سے رک جاؤ گے۔نہ تم امر بالمعروف کرو گے نہ نہی عن المنکر کرو گے۔نہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو گے۔ایسے دور میں کتاب و سنت پر قائم رہنے والوں کے لئے پچاس صدیقین(ولیوں)کا اجر ہوگا۔صحابہ کرام نے [1] تفسیرابن کثیر، (1؍ 399۔405) ضرور ملاحظہ کرنا چاہیے