کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 22
و مصیبت اور یہ ہے آزمائش کا بیج۔یہ منہج ہیں سنت سے انحراف ہے اور کردارو عمل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے رو گردانی ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ دخن جو خیر کے ساتھ مل جائے تو اسے پرا گندہ کر دیتا ہے اس کی شفافیت کو ختم کر دیتاہے وہ دخن بدعات ہیں۔وہ بدعات جو معتزلہ،صوفیاء،جھمیہ،خوارج،اشعریہ،مرجئہ،اور روافض کے مراکز سے نمودار ہوئیں۔اور ان کا آغاز اس وقت ہوا جب فتنوں کی ابتداء کا دور تھا۔ان بدعات نے اسلام میں تحریف،حیلہ اور تاویل کو شامل کر لیا۔اور پھر قرآن صرف رسمی طور پر باقی رہا اور اسلام کا صرف نام رہ گیا جب کہ عبادت صرف ظاہری طور پر باقی رہ گئی۔اس سے معلوم ہوا کہ بدعت بہت ہی نقصان دہ اور خطرناک چیز ہے۔اس لئے کہ یہ دلوں اور جسموں دونوں کے بگاڑ کا ذریعہ ہے کہ سلف صالحین اہل بدعت کے خلاف مجاہدہ کرنے اور ان سے قطع تعلق کرنے پر متفق ہیں۔ مورخ اسلام امام ذہبی اپنی کتاب" سیر اعلام النبلاء"7؍ 216 میں سفیان ثوری کے قول کے بعد لکھتے ہیں جو آدمی یہ جانتا ہو کہ فلاں شخص بدعتی ہے اور اس کے باوجود اس کی بات سنتا ہے تو یہ اللہ کے ذمے اور حفاظت سے نکل جاتا ہے اپنی نفس کے حوالے ہو جاتا ہے۔انہیں سے مروی ہے کہ جو شخص کسی بدعت کے بارے میں سنے تو اسے اپنے ساتھیوں کے سامنے بیان نہ کرے کہ کہیں ان کے دلوں میں بھی یہ بدعت بیٹھ نہ جائے(وہ بھی اس کو پسند کر کے اس میں مبتلا نہ ہو جائیں)۔‘‘[1] امام ذہبی کہتے ہیں اکثر سلف نے اسی طرح متنبہ کیا ہے ان کا خیال ہے کہ دل کمزور ہوتے ہیں اور شبہ انہیں بہت جلد ہی اچک لیتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے سچ کہا ہے بہت صحیح اور خیر خواہی کی بات کی ہے۔اسی وجہ سے تو امت مسلمہ انسان قافلے میں سب سے پیچھے ہے اور ہر چرواہے کے [1] سیر اعلام النبلاء، (7؍ 261)