کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 150
سلفی منہج سے متعلق مفید اقوال سیدنا عبد اللہ بن مسعود(رضی اللہ عنہ)فرماتےہیں: (تم میں سے جو پیروی کرنا چاہے تو ان کی کرے فوت ہو چکے ہیں(یعنی سلف)۔کیونکہ جو زندہ ہیں وہ فتنہ سے محفوظ نہیں۔اور سلف یعین اصحاب رسول ہیں جو اس امت میں سب سے افضل تھے،اور دل کے سب سے زیادہ پاک و صاف تھے،اورعلم کے اعتبار سے سب سے گہرا علم رکھتے تھے،اور بے جا تکلف کرنے سے سب سے زیادہ دور تھے،وہ ایسی قوم تھی جسے اللہ تعالیٰ نےاپنےنبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔پس تمہیں چاہیے کہ ان کی اس فضیلت کا اعتراف کرو،وہ اپنی استطاعت بھر ان کے آثار کی پیروی کرو،کیونکہ وہ ہدایت اور صراط مستقیم پر تھے۔‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ(رحمۃ اللہ علیہ)اپنے فتاویٰ(4؍ 149)میں فرماتے ہیں: (اس شخص پر کوئی عیب نہیں جو مذہب سلف کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی جانب انتساب و رہنمائی کرتا ہے،بلکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے اس بات کو قبول کرنا واجب ہے،کیونکہ مذہب سلف سوائے حق کے اور کچھ نہیں۔ علامہ عبد العزیز بن عبد اللہ بن از(رحمہ اللہ)سےپوچھاگیا،آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتےہیں جو سلفی یا اثری کہلاتا ہے،کیا یہ اپنے نفس کا تزکیہ دیناہے ؟ پس آپ(رحمۃ اللہ علیہ)نے یہ جواب ارشاد فرمایا: (اگر وہ واقعی سچا ہے کہ وہ سلفی یا اثری ہے تو کوئی حرج نہیں،جیسا کہ سلف کہا کرتے تھے:فلان سلفی،فلان اثری،یہ تزکیہ تو ضروری اور واجب ہے)۔ شیخ صالح بن فوزان الفوزان(حفظہ اللہ)سے پوچھا گیا کہ کیا سلفی کہلانے والا بھی حزبی(فرقہ پرست)تصور کیا جائے گا ؟ آپ فرماتے ہیں:اگر سلفی کہلانا برمبنی حقیقت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر یہ محض دعویٰ ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ سلفی کہلائے جبکہ(فی الحقیقت)وہ منہج سلف پر نہیں۔مثلاً اشاعرہ کہتے ہیں کہ ہم اہلسنت والجماعت ہیں مگر یہ درست نہیں ؛ کیونکہ جس چیز پر وہ قائم ہیں وہ منہج اہلسنت والجماعت کا نہیں،اسی طرح معتزلہ اپنےآپ کو موحدین کہلاتے ہیں۔