کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 147
بنائے جاتے ہیں،نہ ان کا مال لیا جاتا ہے نہ ان کے زخمیون پر حملہ ہوتا ہے نہ بھاگنے والوں کا پیچھا کیا جاتا ہے اور نہ ان کے خلاف پہلے قتال شروع کیا جاتا ہے جب تک وہ نہ کریں)۔میں نے کہادو ہو گئے تیسرا کیا ہے؟کہنے لگے،اس(علی رضی اللہ عنہ)اپنے نام سے امیر المومنین کا لفظ مٹا دیا ہے۔اگر وہ امیر المومنین نہیں ہے تو پھر امیر الکافرین ہے؟(نعوذ باللہ)،میں نے کہا اور کچھ؟،کہنے لگے،یہی کافی ہے۔ میں نے کہا،اگر میں تمہارے سامنے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھ لوں جو تمہارے قول کے رد میں ہو تو کیا تم اپنی بات سے پلٹ جاؤ گے؟،انہوں نے کہا،ہاں۔میں نے کہا،تم کہتے ہو کہ اس نے اللہ کے امر میں انسانوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیدیا،میں کتاب اللہ کی آیت پڑھتا ہوں جس میں اللہ نے انسانوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔ایک چوتھائی درھم کی قیمت میں،جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ(المائدہ:95)’’ایمان والو!شکار کو قتل مت کرو جب تم احرام کی حالت میں ہو تم میں سے جس نے جان بوجھ کر ایسا کیا اس کی سزا اس(قتل کیے ہوئے جانور)کے مثل ہےتم میں سے دو صاحبان عدل اس کا فیصلہ کر یں گے۔ حالانکہ یہ اللہ کا حکم تھا مگر اللہ نے لوگوں کو اختیار دیا کہ وہ فیصلہ کر یں۔اگر وہ چاہتا تو خود فیصلہ کر لیتا لہٰذا انسانوں کا فیصلہ کرنا جائز ہے۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آدمیوں کے مابین صلح کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے سے روکنے کے لئے انسانوں کا فیصلہ کرنا زیادہ بہتر ہے یا کسی خرگوش کے بارے میں فیصلہ کرنا۔