کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 145
۳۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ:جب حرویہ [1]نے بغاوت کی یہ لوگ ایک جگہ علیحدہ جمع ہو گئے ان کی تعداد چھ ہزار تھی۔انہوں نے جنا ب علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔ایسے میں روز کوئی نہ کوئی آدمی آکر جناب علی رضی اللہ عنہ سے کہتا کہ امیر المومنین یہ لوگ آپ کے خلاف بغاوت کرنے والے ہیں۔جناب علی رضی اللہ عنہ فرماتے:رہنے دو ان کو میں ان سے جنگ نہیں کروں گا جب تک وہ جنگ میں پہل نہیں کریں گے اور عنقریب وہ ایسا کریں گے(اس لئے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اپنی زندگی میں خبر دیدی تھی)ایک دن میں ظہر کی نماز سے پہلے جناب علی رضی اللہ عنہ وجھہ کے پاس آیا میں نے کہا امیر المومنین نماز موخر کردیں۔تاکہ میں ان لوگوں سے بات کروں۔آپ نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچادیں۔میں نے کہا ہر گز نہیں،میں اچھے اخلاق کا آدمی ہوں کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔علی رضی اللہ عنہ نے مجھے اجازت دیدی۔میں نے یمن کا بنا ہوا بہترین لباس پہنا۔چپل پہنی اور دو پہر کے وقت جب وہ کھانا کھا رہے تھے۔ان کے ہاں چلا گیا۔میں ایسے لوگوں کے پاس آیا تھا کہ ان سے بڑھ کر عبادت گذار میں نے کہیں نہیں دیکھے تھے۔ان کی پیشانیاں سجدوں کی وجہ سے زخمی ہو گئی تھیں(نشان پڑ گئے تھے)ان کے ہاتھ ایسے(سخت تھے جیسے)اونٹوں کے گھٹنے۔انہوں نے معمولی قمیض پہن رکھی تھی۔دھوتی شلوار وغیرہ ٹخنے سے اوپر،ان کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں۔میں نے انہیں سلام کیا،انہوں نے کہا ابن عباس خوش آمدید۔یہ تم نے کیسا لباس(جبہ)پہن رکھا ہے؟ میں نے کہا تم میرے اس فعل کو کیوں معیوب سمجھتے [1] حروریہ، حروراء کی طرف منسوب ہے یہ جگہ ہے جو کوفی سے دو میل کے فاصلے پر ہے، علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرنے والے خوارج کا پہلا اجتماع یہیں ہوا تھا اس لئے ان خوارج کو حروریہ کہا جاتا ہے۔