کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 144
حلقوں والوں کو نہروان والے دن دیکھا کہ یہ خوارج کے ساتھ مل کر ہم پر تیر برسا رہے تھے۔[1] ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے خوارج کے ان متبعین پر حجۃ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی موجودگی کو بنایا اور اس بات کو کہ یہ لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین والا عمل نہیں کر رہے ہیں۔اگر یہ عمل بھلائی اور خیر کا ہوتا تو تم سے پہلے صحابہ یہ عمل کرتے۔مگر جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے نہیں کیا تو یہ گمراہی ہے۔اگر صحابہ کا منہج بعد والوں پر حجۃ نہ ہوتا تو وہ لوگ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہہ دیتے کہ تم الگ لوگ ہو ہم الگ ہیں یا ہم بھی ویسے ہی آدمی ہیں جیسے تم ہو۔ ۲۔ انہی(ابن مسعود رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہتے ہیں جو کسی کی سیرت اپنانا چاہتا ہو تو اسے چاہیئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی سیرت اپنائے اس لئے کہ وہ اس امت کے سب سے زیادہ نیک دل،سب سے بڑے عالم،سب سے کم تکلف کرنے والے سب سے بہتر ہدایت پر،سب سے بہترین حالت والے تھے۔یہ وہ لوگ تھے جنہیں اللہ نے اپنے نبیؐ کے صحابہ بنانے اور اپنے دین کے قیام کے لئے چن لیا تھا۔ان کی فضیلت پہچان لو۔ان کے نقش قدم پر چلتے رہو۔یہ لوگ(صحابہ)صحیح ہدایت ہر تھے۔ [1] (صحیح ) السلسلۃ الصحیحۃ حدیث رقم(2005) سنن دارمی ، باب فی کراہیۃ اخذ الرای حدیث رقم (210) ، البدعۃ و اثرہا السیئ فی الامۃ (29، 33)