کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 140
الاسود،ابو ذر الغفاری،سلمان فارسی۔[1]پھر بیان کرتے ہیں کہ ابو جعفر نے فرمایا مہاجرین اور انصار سب چلے گئے سوائے تین کے۔[2] یہ ان کا آیت اللہ الخمینی اپنی کتاب الاسرار صفحہ۱۳۱ پر ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر طعن کرتا ہے کہتا ہے:شیخان(ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما)یہاں سے ہم اپنے دلوں میں اضطرار اور بے چینی محسوس کرتے ہیں اسے شواہد لانے میں ان دونوں کی قرآن کی صریح مخالفت کی۔تاکہ یہ ثابت کر سکیں یہ دونوں اس کی مخالفت کرتے تھے۔صفحہ۱۳۷ پر لکھتے ہیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں جبکہ آپ کے کانوں میں ابن الخطاب کے وہ کلمات تھے جو جھوٹ پر قائم تھے اور جو کفرو زندقہ کے اعمال سے پھوٹ رہے تھے اور قرآنی آیات کے مخالف تھے۔[3](جھوٹے کی بدگمانی سے اللہ کی پناہ) مرجئیہ:ان کا خیال اور عقیدے میں منافقت پر قائم رہنے والے منافقین کا ایمان سابقون الاولون مہاجرین والانصار کے ایمان کی طرح ہے۔ ان نظریات کے حامل یہ سب فرقے کس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی موافقت کر سکتے ہیں کہ ان میں سے کچھ فرقوں کے اکابر: 1۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تکفیر کرتے ہیں 2- صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عقائد اور احکام نقل کیئے قبول نہیں کرتے۔ 3۔ کچھ فرقے یونان اور روم کے فلسفہ کی باریکیوں کے تابع ہیں۔ [1] "رجاله" (12، 13) [2] الکافی ، للکلینی (115) [3] کشف الاسرار (131)