کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 129
کریمہ میں ہے﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا(مريم:71)"تم میں سے ہر شخص کو اس میں جانا ہوگا"۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی تو ہے کہ﴿نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا(مريم:72)" پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیدیں گے جو متقی ہون گے اور ظالموں کو اس میں اوندھے منہ چھوڑیں گے"۔[1] رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فہم کو برقرار کھا پھر یہ وضاحت کر دی کہ جس ورود کی نفی کی گئی ہے یہ اس ورود کے علاوہ ہے جس کا آیت میں اثبات ہے۔پہلا والا صالحیں متقین کے لئے خاص ہے اس مراد عذاب کی نفی ہے کہ یہ لوگ اس(پل صراط)پر سے گذر کر جنت میں جائیں گے،انہیں کوئی تکلیف یا عذاب نہیں پہنچے گا،جبکہ باقی لوگوں کے ساتھ اس کے بر عکس سلوک ہوگا۔ ثابت ہوا کہ دلیل الخطاب حجۃ ہے اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور(دین کو)سمجھنے کے لئے اس کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ﴿وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ﴾(النساء:115)دلیل خطاب نہیں ہے بلکہ یہ تقسیم عقلی کے ذریعے حجۃ لی گئی ہے۔اس لئے کہ سبیل المؤمنین کی اتباع اور غیر سبیل المؤمنین کی اتباع ان دونوں کے علاوہ تو کوئی تیسری صورت ہی نہیں ہے۔اور جب اللہ نے صحابہ کے سبیل کے علاوہ دوسرے سبیل کی اتباع حرام قرار دیدی تو صحابہ کے سبیل کی اتباع واجب ہو گئی۔یہ تو بہت واضح بات ہے۔ [1] صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل اصحاب الشجرۃ اہل بیعۃ الرضوان حدیث رقم (4552)