کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 123
تمام لوگوں سے بہتر میرا دور ہے۔پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں پھر وہ جو ان کے بعد پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سےکسی کی گواہی قسم اور قسم گواہی سے آگے جائے گی۔سبقت کرے گی۔[1] کیا وہ بہتری جو ثابت ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کے لئے ان کے رنگ،اجسام اور اموال میں ہے؟ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز مراد نہیں ہے۔اس لئے کہ اسلام میں خیر کا معیار دل کا تقویٰ اور صالح عمل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ(الحجرات:13)،اللہ کے ہاں تم میں سے زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ تقویٰ دار ہے۔ ((قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ،وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "اللہ تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔[2] اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دلوں کو دیکھا تو وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد دیگر لوگوں کی بنسبت سب سے بہترین دل نظر آئے تو اللہ نے انہیں وہ فہم و فراست دی کہ جو بعد میں آنے والوں کو نہیں مل سکتی۔لہٰذا جسے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین حسن اور بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بہتر ہے اور جسے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں برا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا پرکھاتو ان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دل سب سے بہترین تھا تو اسے اپنے لئے چن لیا،ان کو اپنی [1] صحیح البخاری ، کتاب الشہادات ، باب لا یشہد علی شہادۃ جور اذا اشہد ، حدیث رقم (2458) [2] صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب تحریم ظلم المسلم ، رقم (4651)