کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 119
اور یہ ایسی چیز ہے جو صرف قرآن کا امتیاز ہے ان دلائل کی بنیاد پر عالم راسخین فی العلم میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایسا علم ہے جس سے دلی اطمنان اور نفسی تسکین ہوتی ہے۔عقل ترقی کرتی ہے اور اس کی وجہ سے بصیرت روشن ہو جاتی ہے اس کی وجہ سے حجۃ قوی ہوتی ہے اور جو شخص اس کو دلیل بنا لیتا ہے دنیا میں کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا۔بلکہ جو ان دلائل کی بنیاد پر مقابلہ کرتا ہے اس کی حجۃ غالب آتی ہے اور مقابلہ کے شبہ یا اعتراض کو شکست دے دیتا ہے۔اسی کی بنیاد پر دلوں کو فتح کیا جاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کیا جاتا ہے۔ لیکن اس علم کے حاملین ہر زمانے میں بہت کم ہوتے ہیں قرآن کی دلالت عقلی،قطعی اور یقینی ہے۔اس کو شبہات لاحق نہیں ہوتے نہ اس میں احتمالات داخل ہوتے ہیں اور جب ایک مرتبہ دل میں اس کی سمجھ بیٹھ جائے تو پھر دل کسی اور طرف نہیں جاتا۔ متکلمین میں سے ایک قول ہے" میں نے دلیل کی تلاش میں علم کلام میں اپنی عمر گنوادی مگر م یں دلیل سے مزید دور ہوتا گیا پھر میں نے قرآن کی طرف رجوع کیا اس میں فکر وتدبر کرنے لگا تو مجھے حقیقی دلائل مل گئے اور مجھے محسوس تک نہ ہوا۔ مزید کہتا ہے:جب میں نے قرآن کی طرف رجوع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو حکم بھی ہے اور دلیل بھی۔میں نے اس میں اللہ کے وہ دلائل حجۃ،براہین دیکھے کہ متکلمین نے جو کچھ بھی صحیح اور حق کہا ہے اگر اس کو جمع کیا جائے تو قرآن کی ایک سورت کا کا مضمون،حسن بیان،فصاحت لفظ،تطبیق مفصل،حسن احتراز،مواقع شبہ پر تنبیہ اس کے جواب کی طرف رہنمائی کے لحاظ سے بہتر