کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 117
علامہ ابن القیم جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بہت سے جاہلوں کے خیال میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اسلام میں دلیل و حجۃ نہیں ہے۔اور جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم انے مخالفین کے سامنے دلیل و حجۃ پیش نہیں کرتے تھے،نہ ان سے دلائل کے ذریعے مقابلہ کرتے تھے۔جاہل منطقی اور یونان سے مرعوب ہو نے والے کہتے ہیں کہ شریعت عوام سے خطاب کرتی ہے اس میں حجۃ و دلیل نہیں ہوتی،اور انبیاء نے عوام کو بطریق خطاب دعوت دی جبکہ حجۃ خواص کے لئے ہوتیہے۔یعنی عقلی دلائل ماننے والوں کے لئے اس سے مراد یہ اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو لیتے ہیں۔یہ لوگ یہ سب باتیں اس وجہ سے کرتے ہیں کہ یہ شریعت اور قرآن سے لا علم ہیں ورنہ قرآن نے مسائل توحید،اثبات الصانع والمعاد ارسال الرسل اور حدوث عالم پر دلائل،براہین اور حجتوں کے انبر لگا دیئے ہیں۔متکلمین ان مسائل پر جو بھی صحیح دلیل پیش کرتے ہیں وہ قرآن میں زیادہ فصیح عبادت،واضح بیان اور مکمل معنی کے ساتھ موجود ہوتی ہے،اور اعتراضات و سوالات سے پاک ہوتی ہے۔اس بات کا اعتراف متقدمین و متاخرین ماہر متکلمین نے کہا ہے۔[1] مثلاً ابو حامد الغزالی احیاء العلوم کے آغاز میں فرماتے ہیں اگر تم کہو کہ آپ علم کلام اور فلسفہ کے بارے میں کیوں بات نہیں کرتے اور یہ وضاحت کیوں نہیں کرتے کہ یہ دونوں قابل مذمت ہیں یا قابل تعریف؟ جواب:یہ بات یاد رکھو کہ علم کلام کے دلائل کا نچوڑ جس پر مشتمل ہے جن سے یہ علم فائدہ اٹھاتا ہے۔قرآن و احادیث ان دلائل پر مشتمل ہیں(قرآن و حدیث میں وہ دلائل موجود ہیں)اور جو دلائل قرآن و حدیث میں نہیں ہیں تو پھر وہ یا تو مجادلہ ہے جو قابل مذمت اور بدعت ہے [1] مفتاح دار السعادۃ للجوزی (1؍ 145، 146)