کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 115
اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور صاحبان نظر کے لئے سبق ہے۔یہ لوگ جب ابتداء میں ہی ان معلومات میں داخل ہوتے ہیں تو اس وقت ان کو ان معلومات کے جھل ہونے کا علم کیوں نہیں ہوتا۔تاکہ یہ لوگ اس کے پیچھے چلنے سے رک جائیں اور اپنے آپ کو اس تھکاوٹ اور مشقت سے بچالیں اور عوام کو مبارک باد دینے اور اس آرزو سے محفوظ رہیں اس لئے کہ عقلمند کبھی بھی اپنے مرتبے کے برابر یا اس سے کمتر کی تمنا نہیں کرتا یا اپنے جیسے یا اپنے سے کمتر(عمل کرنے والے)کو مبارکباد نہیں دینا۔تمنا صرف اس مرتبے کی کی جاتی ہے جو بلند اور اعلیٰ ہو۔تعجب ہے ایسے علم پر جس سے جھل کا مرتبہ بلند ہے اور جھل کی طرف اپنی نسبت کرنا اس علم کی طرف نسبت کرنے سے زیادہ افضل ہے۔کیا کسی نے ایسا سنا یا کسی نے لکھا ہے؟ جب اس گروہ کی حالت یہ ہے جو کہ ان تمام گروہوں کی بنسبت کم تکلف والا ہے ان کی بنسبت کم نقصان والا ہے تو پھر ان گروہوں کا کیا حال ہو گا جن کے مقاصد کا فساد واضح ہے۔اور ان کے منبع اور سر چشمہ کا بطلان معلوم ہے؟ مثلاً وہ گروہ جو اس طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس طرح کا طرز عمل اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والوں کا ہے اور یہ گروہ اعتراضات و شبھات کے ذریعے اسلام میں شکوک پیدا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے کام کر رہے ہیں جو اسلام کو معیوب بناتے ہیں،اور مسلمانوں سے متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں اس سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ بہترین امور وہ ہیں جو ہدایت کے مطابق ہیں اور بدترین امور بدعات ہیں۔[1] [1] التحف فی مذاہب السلف(41، 44)