کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 114
اللہ کی ہی بات کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے علم اور حکمت سے اتنا نوازا ہے کہ دیگر انبیاء کے متبعین پر فوقیت حاصل کر چکے ہیں۔انہوں نے حقائق معارف اور حقائق کے باطن کا اتنا احاطہ کیا ہے کہ اگر ان کے علاوہ لوگوں کی حکمت اکھٹی کی جائے تو وہ اس کے مقابلے میں ہیج ہوگا۔پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ خیر القرون کے لوگ علم و حکمت میں ناقص ہوں،خاص کر اللہ اور اس کے اسماء وصفات کے علم میں،یہ اصاغر لوگ ان کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ کیا فلاسفہ کے یہ چورے،ہند اور یونان کے متبعین اللہ کے بارے میں ان ورثۃ الانبیاء اور اہل القرآن و اہل الایمان سے زیادہ علم رکھتے ہیں؟[1] عالم ربانی امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان لوگوں کا خیا لے کہ خلف کا طریقہ زیادہ علمی ہے خلف کے طریقے کی علمیت کے بارے میں جو زیادہ سے زیادہ کا میابی انہوں نے حاصل کی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے محققین اور ذھین لوگ آخر کار دنیا والوں(عام لوگوں)کے دین کی تمنا کرتے ہیں اور کہتے ہیں عوام خوش نصیب ہیں۔ غور کرنا چاہیئے کہ یہ کیسی زیادہ علمیت ہے کہ جس کا حاصل ہے جاہل کی کامیابی پر مبارکباد،جہل بسیط(کو مبارکباد)اور تمنا کرنا کہ ان میں شامل ہوں ان کے دین کو اپناؤں،ان کے طریقے پر چلوں،یہ تو گویاچیخ چیخ کر پکار رہا ہے اور واضح دلالت کر رہا ہے کہ یہ علمیت جو انہوں نے تلاش کی ہے اس جہالت کئی گنا بہتر ہے اب اس علم کے بارے میں کیا کہا جائے گا جس کو حاصل کرنے والا خود اقرار کرے کہ جہالت اس علم سے بہتر ہے۔اور اس علم کی انتہا کو پہنچنے کے بعد یہ تمنا کرے کہ کاش وہ جاہل ہوتا۔ [1] العقیدۃ الحمویۃ (1؍ 428)