کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 113
ہماری زندگی بھر کا بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم نے قیل وقال جمع کر لیا۔ انہی(عقل پسندوں،فلسفیوں)میں سے کسی نے کہا ہے میں بہت گہرے سمندر میں اتر گیا اور میں نے اہل اسلام اور ان کے علوم کو ترک کر دیا۔میں اس کام میں مشغول ہوا جس سے انہوں نے مجھے منع کیا تھا اب حالت یہ ہے کہ اگر اللہ مجھ پر رحمت نہیں کرے گا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا اور اب مجھے موت اپنی ماں کے عقیدے پر موت آرہی ہے۔[1] ان میں سے ایک اور آدمی کا قول ہے موت کے وقت سب سے زیادہ شک میں مبتلا لوگ اصحاب الکلام(متکلمین)ہوتے ہیں۔ پھر جب ان لوگوں پر حقیقت حال کا علم ہوتا ہے تو ان کے پاس اللہ کے بارے میں کسی قسم کا علم نہیں ہوتا نہ ہی اللہ کی خالص معرفت کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں،نہ ہی ان لوگوں کے پاس اس بارے میں کوئی حقیقی یا منقولہ معلومات ہوتی ہیں۔یہ ناقص،بے خبر،کم تر،(علمی لحاظ سے)پیچھے رہ جانے والے،حیران و سرگردان لوگ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ اور ان کے تابعین ورثہ،الانبیاء،خلفاء الرسل،اعلام الھدی،مصابیح الدجی سے زیادہ اللہ اور اس کی آیات کا علم رکھتے ہیں؟ جبکہ ان سابقون الاولون اور ان کے متبعین کی وجہ سے ہی کتاب و سنت قائم ہے۔ان کی وجہ سے کتاب اللہ لوگوں تک پہنچا ہے اور یہ لوگ کتاب [1] یہ الفاظ ابن الجوینی کے ہیں جیسا کہا المنتظم9/19 سیر اعلام النبلاء18؍ 471،طبقات الشافعیہ3؍ 260اور شذرات الذھب 3؍ 361میں مذکور ہے۔