کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 110
فکر کا متقاضی ہے:﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا(البقره:137)ترجمہ:’’اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئین جس طرح تم(صحابہ)ایمان لائے ہو تو یہ ہدایت پر ہوں گے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر بھی غور کریں:((إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ،الْمُتَمَسِّكُ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمِثْلِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَهُ كَأَجْرِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ))تمہارے بعد صبر کے دن ہیں ان میں جس نے اس طریقے کو تھام لیا جس پر آج تم کار بند ہو تو اس کے لئے تمہارے بچاس آدمیوں کے برابر اجر ہوگا۔[1] اس طرح کے ارشادات صرف اسی منہج کے لئے ہو سکتے ہیں جو صاف اور علمی منہج ہو دن کی طرح واضح ہو۔اس سے رو گردانی کرنے والا ہلاکت میں ہے۔اسے مسترد کرنے والا گمراہ ہے۔اس میں شک وہی کرے گا جس کا دل یقین سے خالی ہو۔ جو لوگ سلف کے بارے میں صحیح اندازہ نہ لگا سکے جنہوں نے ان کی کما حقہ قدر نہیں کی وہ کہتے ہیں کہ سلف صرف نصوص تھے یعنی ظاہر نصوص پر اعتماد کر تے تھے اور کسی معاملے میں عقل استعمال نہیں کرتے تھے۔ اگر اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ نصوص کو من و عن تسلیم کرتے تھے۔اس کے مدلوں کو سمجھے بغیر اور ان کا معنی اللہ کے سپرد کیا کرتے تھے۔وہ جن احادیث و نصوص کو روایت کرتے تھے ان میں سے جو اطاعت و عبادت کے لحاظ سے زیادہ نفع بخش اور لائق ہوتی ان میں مشغول ہوتے۔ [1] (صحیح ) السلسلۃ الصحیحہ رقم (494) المعجم الکبیر للطبرانی، رقم (13736)