کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 107
گامزن ہے جس کو صرف وہی چھوڑ سکتا ہے جو ہلاک ہونا چاہتا ہے،اور کوئی گمراہ ہی اس سے رو گردانی کر سکتا ہے،اور یہ راستہ بہت ہی واضح ہے۔جس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باین الفاظ کیا ہے: ((ما انا علیہ الیوم واصحابی))آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان((عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ))میں بھی یہی راستہ مراد ہے۔اس لئے کہ جس راستے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے وہ آپ کی وہی سنت ہے جو خلفائے راشدین المھدیین کی سنت ہے اور ان علماء عاملین کا راستہ اور طریقہ ہے جو قیامت تک صحابہ کرام کی نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔ 3۔ یہ میں نے کوئی نئی توجیح ایجاد نہیں کی بلکہ مجھ سے قبل متعدد ائمہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن وہ اشارہ زیادہ واضح نہیں تھا میں نے ان کو تلاش کیا اس کی وضاحت کر دی اور انہیں دلائل سے مزین کیا تا کہ مومنین کا راستہ کھل کر سامنے آجائے۔جن ائمہ نے یہ توجیہ پیش کی ہے ان میں سے ایک حافظ ابن حبّان ہیں جنہوں نے عرباض بن ساریہ کی یہ حدیث اپنی صحیح ۱۰۴/۱ میں روایت کی ہے۔اس کے لئے باب باندھا ہے"ذکروصف الفرقۃ الناجیۃ من بین الفرق التی تفترق علیھا امۃ المصطفی صلى اللّٰه عليه وسلم " پھر اس کے بعد فرماتے ہیں" فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي " امت کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کے وقت سنتوں کو اپنانے کا حکم واضح بیان ہے اس بات کا کہ جس نے سنتوں پر مواضبت کی۔ان کے مطابق چلتا رہا ان پر دوسری آراء کو ترجیح نہیں دی۔وہ قیامت کے دن فرقہ ناجیہ میں سے ہوگا۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی ان میں شامل رکھے۔[1] [1] صحیح ابن حبان (1؍ 104)