کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 105
صنعانی رحمۃ اللہ علیہ کا عمدہ کلام پیش کیا ہے فرماتے ہیں جہاں تک بات ہے حدیث:((عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ،تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ،))تو اس مراد صرف ان کا وہ طریقہ ہے جو رسول کے طریقے کے موافق ہے۔مثلاً دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنا،اور شعائر دین کو تقویت دینا وغیرہ،یہ حدیث عام ہے ہر خلیفہ راشد کے لئے ہے۔صرف شیخین(ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما)کے لئے خاص نہیں ہے اور شریعت کے اصول و قواعد سے یہ بات ثابت اور معلوم ہے کہ کسی خلیفہ راشد کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ رسول کے طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خلفائے راشدین کی سنت سے مراد ہے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا فہم دین اس لئے کہ یہ اسی طریقے اور فہم پر تھے جس پر ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اس کی وضاحت اس حدیث سے بھی ہو جاتی ہے جو عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو حالات بنی اسرائیل پر آئے تھے وہی حالات ہو بہو میری امت پر آئیں گے۔جیسے جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اگر ان میں ایسا کوئی ہو کہ علانیہ اپنی ماں سے نکاح کرے تو میری امت میں بھی ایسا کوئی ہوگا۔بنی اسرائیل اکہتر(۷۱)فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے۔میری امت تہتر(۷۳)فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی،سوائے ایک کے سب جہنم میں جائیں گے۔کسی نے سوال کیا وہ ایک کونسا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا" ما انا علیہ الیوم واصحابی" آج میں اور میرے صحابہ جس طریقے پر ہیں(اس پر کاربند رہنے والا)(حسن شواہد کی وجہ سے)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرما دی تھی کہ طائفہ منصورہ وہ ہوگا جس میں میری اور میرے صحابہ کی صفات پائی جائیں۔[1] [1] (حسن) مستدرک الحاکم ، فصل فی توفیر العالم، حدیث رقم (444)