کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 103
تو اس وجہ سے ہے کہ ان کو سنتوں کا علم تھا یا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ان سے استنباطات کیا اور انہیں اختیار کیا۔[1] 5۔ علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انہی کو موافقت کی ہے۔فرماتے ہیں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت سے مراد ان کا وہ طریقہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے موافق ہے۔[2] مزید فرماتے ہیں:جب یہ معلوم ہو گیا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت سے صرف وہ طریقہ ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہو۔[3] امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کا عمدہ قول بھی انہوں نے نقل کیا ہے۔فرماتے ہیں علماء نے اس بارے میں بہت طویل کلام کیا ہے اور اس کی تاویل طریقوں سے کی ہے جن میں سے اکثر غیر متعلق اور بے مقصد ہیں۔[4] جس کو اپنانا چاہیئے اور جس پر اکتفا کرنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ عربی لغت کے لحاظ سے یہ ترکیب جس پر دلالت کرتی ہے اس پر عمل کرنا چاہیئے اس اپنانا چاہیئے(عربی لغت میں)سنت کہتے ہیں راستے اور طریقے کو گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے کہ میرے اور خلفائے راشدین کاطریقہ لازم پکڑو اور خلفاء کا راستہ یا طریقہ وہی تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلفاء کا تمام لوگوں سے زیادہ اس طریقے کو اپنانے کی خواہش اور شوق رکھتے تھے ہر معاملے میں اس پر عمل کرتے تھے۔ہر حال میں یہ لوگ چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے اجتناب کرتے تھے،اور [1] مرقاۃ المفاتیح (1؍ 199) [2] تحفۃ الاحوذی (3؍ 50، 7؍ 420) [3] تحفۃ الاحوذی (3؍51) [4] تحفۃ الاحوذی (7؍440، 441)