کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 102
یا یہ صورت ہو کہ یہ خلفاء سنت رسول کی اقتداء و اتبع کرتے تھے،اور ہم یہی کہتے ہیں کہ(سنت خلفاء سے مراد یہی ہے)یہ حدیث اس صورت کے علاوہ کوئی اور صورت رکھتی ہی نہیں۔ 2۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو خلفائے راشدین کی سنت ہے وہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم سے بنائی ہے۔لہٰذا یہ آپ کی ہی سنت ہے،دین میں صرف وہی واجب ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واجب قرار دیا ہے اور وہی حرام ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے،وہی مستحب ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحب قرار دیا ہے،وہی مکروہ ہے جسے اللہ کے رسول نے مکروہ کہا ہے اور وہی مباح ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مباح قرار دیا ہے۔[1] 3۔ الفلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہا جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم،ابو بکرو عمر رضی اللہ عنہما کی سنت تاکہ معلوم رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طریقے پر تھے یہاں تک کہ دنیا سے تشریف لے گئے۔[2] میں کہتا ہوں اسی پر محمول کرنا چاہیئے اس حدیث کو "علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی"عطف کرنے میں اب کوئی اشکال باقی نہ رہا اس لئے کہ خلفاء کی اپنی کوئی سنت نہیں تھی جس کی پیروی کی جاتی ہو صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی سنت تھے۔ 4۔ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں"علیکم بسنتی۔۔۔۔۔کا مطلب یہ ہےکہ)انہوں نے کوئی سنت نہیں بنائی صرف میری سنت ہے۔خلفاء کی طرف سنت کی اضافت یا [1] مجموع الفتاویٰ (1؍ 282) [2] ایقاظ ہمم اولی الابصار (23)