کتاب: میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا؟ - صفحہ 10
امت کی موجودہ حالت اور جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں امت اسلامیہ پر اس وقت دو قسم کی مد ہوشیاں ایسی طاری ہو گئی ہیں کہ جن کی وجہ سے اس کا توازن بگڑ گیا ہے۔یہ کبھی دائیں کبھی بائیں جھکتی ہے۔یہاں تک کہ اس امت کے بہت سے لوگ چھوٹے چھوٹے راستوں پر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ (۱)کمزوری کی حالت: یہ وہ حالت ہے جس کی طرف(احادیث میں)اشارہ کیا گیا تھا بلکہ وضاحت و صراحت کے ساتھ اس کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور اس توجہ دلانے میں کسی ابہام سے بھی کام نہیں لیا گیا کہ کوئی سمجھ نہ سکے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام جناب ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا»،فَقَالَ قَائِلٌ:وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:((بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ،وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ،وَلَيَنْزَعَنَّ اللّٰهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ،وَلَيَقْذِفَنَّ اللّٰهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ))،فَقَالَ قَائِلٌ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ،وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ:((حُبُّ الدُّنْيَا،وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ))" [1] جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’قریب ہے کہ تمہارے خلاف قومیں متفق و مجتمع ہو جائیں جس طرح بہت سے کھانے والے ایک پیالے یا پلیٹ کے گرد جمع ہوتے ہیں۔کسی نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس دن ہم کم ہوں گے اس لئے؟ آپ نے فرمایا اس دن تم زیادہ ہو گے لیکن تم اس وقت سیلاب میں بہنے والے کچرے کی [1] (صحیح )صحیح سنن ابی داؤد ، حدیث رقم (2497) سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب فی تداعی الأمم على الإسلام حديث رقم (3745)